اسلام علیکم
محترم مہمان آپ کا
urduyahoo.blogspot.com
پر آنے کا بہت بہت شکریہ
اس بلاگ میں آپ کو اگر کوئی غلطی نظر آئے یا اس کی بہتری کے لئے اگر کوئی تجویز بھی دینا چاہیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے
اور اگر آپ کوئی تحریر شائع کروانا چاہتےہیں تو آپ ہمیں ای میل کریں
ؑEmail : jinnah332@yahoo.com
کہ تم ہو یاد مجھے
پَلٹ کے دیکھنا چاہو تو نفرتوں سے اُدھر
دِنوں کی راکھ پہ راتوں کی یخ ہتھیلی پر
ہوَا کے ناچتے گِرداب کی تہوں میں کہیں
بُجھا ہوُا کوئی لمحہ کِسی چراغ کا داغ
نظر پڑے تو سمجھنا کہ میں بھی زندہ ہوں
کہ مَیں بھی زندہ ہوں اپنے اُجاڑ دل کی طرح
اُجاڑ دِل کہ جہاں آج بھی تمھارے بغیر
ہر ایک شام دھڑکتے ہیں خواہشوں کے کواڑ
ہر ایک رات بکھرتی ہے آرزو کی دھنک
ہر ایک صبح دہکتے ہیں زخم زخم گلاب
اُجاڑ دِل کہ جہاں آج بھی تمھارے بغیر
ہر ایک پَل میری آنکھوں میں دُھل کے ڈھلتا ہے
تپکتی رُت کی تپش سے بدن پگھلتا ہے
اُجاڑ دِل کہ جہاں ڈُوبتا ہوُا سوُرج
جبینِ وقت پہ لکھتا ہے دُوریوں کا پیام
پلٹ کے دیکھنا چاہو تو نفرتوں سے اُدھر
پسِ غبار درخشاں ہے کب سے ایک ہی نام
وہ نام جس پہ مُسلسل ہے اعتماد مجھے
وہ نام لوحِ جہاں پر اُبھر کے بولتا نام
نظر پڑے تو سمجھنا کہ تم ہو یاد ’’ مجھے ‘‘
مجھے کیا خبر تھی سچ مچ یہ سمے گزر رہا ہے
مجھے کیا خبر تھی سچ مچ یہ سمے گزر رہا ہے
میں یہی سمجھ رہا تھا وہ مذاق کر رہا ہے
ذرا مہلت تو دے دو, مرے بخت نارسا کو
یہ ابھی بدل رہا ہے یہ ابھی سنور رہا ہے
تری چاپ سننے والا ترا منتظر ہے اب تک
ابھی کل تلک یہ رستہ تری رہگزر رہاہے
تجھے مل سکے جو فرصت تو یہ دیکھ تیری خاطر
کوئی کیسے جی رہا ہے کوئی کیسے مر رہا ہے
نئے ہم سفر میں کیا ہے کوئی ایسی خاص خوبی
کہ مری رفاقتوں کا بھی نشہ اتر رہا ہے
اسے جانے خوف کیا ہے مری جان ناتواں سے
کہ قفس میں لانے والا مرے پر کتر رہا ہے
اے مری قوم کے جاں باز جوانو! اٹھو
اپنے بگڑے ہوئے حالات کو جانو، اٹھو
وقت آیا ہے کہ اب حشر اٹھانا ہے تمہیں
اپنے محسن کو یزیدوں سے بچانا ہے تمہیں
نعرہ زن ہو کے ہر اک قصر گرانا ہے تمہیں
حاکمِ وقت سے ٹکرانے کی ٹھانو، اٹھو
اے مری قوم کے جاں باز جوانو! اٹھو
جس نے اس ملک کو ناقابلِ تسخیر کیا
خوابِ کہسار کو شرمندۂ تعبیر کیا
اور پھر خواہشِ خوش رنگ کو تصویر کیا
اُس کی خاطر اے حمیّت کے نشانو، اٹھو
اے مری قوم کے جاں باز جوانو! اٹھو
پھر وہی معرکۂ کرب و بلا ہے، دیکھو
شبِ تیرہ میں کوئی دیپ جلا ہے، دیکھو
پھر کوئی ملک بچانے کو چلا ہے، دیکھو
بس یہی رنگِ بقا ہے مری مانو، اٹھو
اے مری قوم کے جاں باز جوانو! اٹھو
ہم نہ چھوڑیں گے کبھی اُس کے وفاداروں کو
ہم کہ پہچانتے ہیں اُس کے اداکاروں کو
کر ہی دیں ملک بدر، ملک کے غداروں کو
اب سرِ معرکہ اے شعلہ بیانو، اٹھو
اے مری قوم کے جاں باز جوانو! اٹھو
جون ایلیا
تم حقیقت نہیں ہو حسرت ہو
جو ملے خواب میں وہ دولت ہو
میں تمہارے ہی دم سے زندہ ہوں
مر ہی جاؤں جو تم سے فرصت ہو
تم ہو تو خوشبو کے خواب کی خوشبو
اور اتنی ہی بے مروت ہو
تم ہو پہلو میں پر قرار نہیں
یعنی ایسا ہے جیسے فرقت ہو
کس طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں
تم مری زندگی کی عادت ہو
کس لیے دیکھتی ہو آئینہ
تم تو خود سے بھی خوبصورت ہو
داستاں ختم ہونے والی ہے
تم مری آخری محبت ہو
محمد محسن اسرار
کچھ نیا پن ملا رفاقت میں
کوئی تبدیلی آئے عادت میں
حال احوال ہی نہیں کوئی
ہم بھی رہتے ہیں کیس حالت میں
دل بہت تیزی سے دھڑکتا ہے
کچھ نہ کچھ ہوتا ہے رفاقت میں
توڑ کرتا ہے دل تاسُف کا
رقص کرتے ہیں ہم نقاہت میں
آنکھ روتی ہے خون پوری طرح
عشق پوُرا ہے اپنی ہیئت میں
اتنا ادراک میرے بس کا نہیں
اب اِضَافہ نہ کر محبت میں
نبض آہستہ چلنے لگتی ہے
شک اُترتا ہے جب طبعیت میں
بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے
ٹوٹ جاتا ہے د ل حقیقت میں
پُوری اجرت مگر نہیں ملتی
کیا کمی ہے مری مشقت میں
خواہشیں خوش گوار لگتی ہیں
وَِ صف ہوتا ہے وہ قنَاعَت میں
خُود سے مِل کر دُکھی ہوئے محسن
مُبتَلا ہو گئے اذ یِت میں
جگر مراد آبادی
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا
لہروں سے کھیلتا ہوا، لہرا کے پی گیا
بے کیفیوں کے کیف سے گھبرا کے پی گیا
توبہ کو توبہ تاڑ کے، تھرا کے پی گیا
زاہد، یہ میری شوخیِ رندانہ دیکھنا
رحمت کو باتوں باتوں میں بہلا کے پی گیا
سر مستیِ ازل مجھے جب یاد آ گئی
دنیائے اعتبار کو ٹھکرا کے پی گیا
آزردگیِ خاطرِ ساقی کو دیکھ کر
مجھ کو یہ شرم آئی کہ شرما کے پی گیا
اے رحمتِ تمام! مری ہر خطا معاف
میں انتہائے شوق میں گھبرا کے پی گیا
پیتا بغیرِ اذن، یہ کب تھی مری مجال
در پردہ چشمِ یار کی شہ پا کے پی گیا
اس جانِ مے کدہ کی قسم، بارہا جگر
کل عالمِ بسیط پہ میں چھا کے پی گیا
عزم بہزاد
رات ایک محفل میں گفتگو نمو پر تھی
ہر زبان ساکت تھی، ہر نگاہ پتھر تھی
اک سوال کی لوَ سے ہونٹ جھلسے جاتے تھے
اک جواب کی ٹھنڈک آہ کے برابر تھی
ایک بے یقیں لہجہ خوف سے لرزتا تھا
اک چھپی ہوئی حیرت، حیرتوں سے باہر تھی
وہ سخن زباں پر تھا، جس کو دل میں رہنا تھا
وہ شکن جبیں پر تھی جو ادائے بستر تھی
میں بہت ہراساں تھا زخم کے نہ بھرنے سے
ایک شب کی مہلت تھی اور جنگ سر پر تھی
شاخ ِ دل کی ہریالی خواب کا بیاں ٹھہری
میں نے جس کو نم رکھا، وہ زمیں ہی بنجر تھی
مجھ میں ایک دریا ہے جو بپھرتا رہتا ہے
پہلے ایک صحرا تھا جس پہ چُپ کی چادر تھ
میں نے اس کو ہر لمحہ جسم سے پکارا تھا
اب کُھلا کہ وہ خواہش روح کے برابر تھی
عشق کی کرامت ہے ورنہ عمر کے ہاتھوں
خال و خط کی ویرانی حسن کا مقدر تھی
کیا ہوئے وہ لب جن سے پھول ہی برستے تھے
کیا ہوئی وہ شادابی جو ہمیں میّسر تھی
عزم بے سبب دیکھا تم نے خواب ِسیرابی
دشت کے تسلسل میں تشنگی ہی بہتر تھی
بہادر شاہ ظفر
آیا نہ اگر نامہ و پیغام کسی کا
آخر ہے کوئی روز میں یاں کام کسی کا
دیں جان تو ہم غیر کو دو بوسہ، ستم ہے
لے جائے کوئی اور، ہوا نام کسی کا
اس چشم کی گردش سے ہو دل کیونکر نہ برباد
گھر چھوڑے ہے کب گردشِ ایام کسی کا
وہ کرتے ہیں آرام سدا غیر کے گھر میں
کیا کام انہیں جائے ہو آرام کسی کا
شب ہالہِ مہ رشک سے گردوں پر نہ نکلا
چھلا جو پڑا دیکھا لب بام کسی کا
ساقی نہ کھلا بھید کہ اوندھا ہے فلک کیوں
مدت سے ہے اوندھا ہوا بس جام کسی کا
جو ہے وہ مرے نام سے ہے عشق میں آگاہ
بدنام ظفر نہ ہو غرض نام کسی کا
آپ مغرور کیوں سمجھتے ہیں
مجھے کم بولنے کی عادت ہے