اسلام علیکم

محترم مہمان آپ کا
urduyahoo.blogspot.com
پر آنے کا بہت بہت شکریہ
اس بلاگ میں آپ کو اگر کوئی غلطی نظر آئے یا اس کی بہتری کے لئے اگر کوئی تجویز بھی دینا چاہیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے
اور اگر آپ کوئی تحریر شائع کروانا چاہتےہیں تو آپ ہمیں ای میل کریں
ؑEmail : jinnah332@yahoo.com



Showing posts with label میڈیکل. Show all posts
Showing posts with label میڈیکل. Show all posts

کھجور قدرت کا بے بہا عطیہ

0 تبصرہ جات
کھجور قدرت کا بے بہا عطیہ

رمضان المبارک میں کھجور کا استعمال بڑھ جاتا ہے۔کھجور کو زمانہ قدیم سے ہی خصوصاً طب نبوی کے حوالے سے بہت اہمیت حاصل ہے اسے صحرا کی خوراک بھی کہا جاتا ہے ۔کھجور بھرپور جسمانی‘دماغی و اعصابی طاقت کیلئے قدرت کا عطیہ ہے۔



کھجور کی اصل سرزمین عرب ہے۔ یہ سعودی عر ب‘ عراق‘ مصر‘ایران‘ اٹلی‘ چین اور امریکا میں بھی کاشت کی جاتی ہے اس کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اس کی خاصی پیداوارہے۔ کھجور کا مزاج گرم و خشک ہے۔ اس میں حیاتین اور اہم معدنی اجزا بھی پائے جاتے ہیں۔ طبی فوائد میں کھجور دل دماغ اور اعصاب کو قوت دیتی ہے زود ہاضم اور جسم میں خون کے سرخ ذرات میں اضافہ کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کو توازن میں رکھتی ہے۔ عرب کی کھجور عجوہ خاص طور پر دل کے امراض کیلئے انتہائی مفید ہے۔ حکیم خالد نے کہاکہ کھجور بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرتی ہے۔ اس کی گٹھلی سے مشروب بنایا جاتا ہے جو ڈیٹ کافی کہلاتا ہے۔ دودھ میں ابلی ہوئی تازہ کھجوریں یا کھجور کا ملک شیک بچوں اور بڑوں کے لیے انتہائی قوت بخش اور زود ہضم ہونے کے باعث جسمانی توانائی اور خلیوں کی توڑ پھوڑ کی اصلاح کے لیے انتہائی کارآمد ہے۔




افطاری میں اس کا استعمال فوری توانائی بخشتا ہے ۔کھجور کا استعمال آنتوں میں کیڑوں کو پیدا ہونے سے روکتا ہے اور ساتھ ہی یہ آنتوں میں مفید بیکٹریا کی پیدائش میں مدد دیتی ہے۔ کھجورکا استعمال قبض میں انتہائی موثر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کھجور میں موجود ریشہ یعنی پھوک آنتوں کو متحرک کرکے اجابت ممکن بناتا ہے۔ قاضی خالد نے کہا کہ رات بھر پانی میں بھیگی ہوئی 11یا 7 کھجوریں اگلی صبح گٹھلیاں نکال کر اسی پانی میں کچل کر جوشاندہ بنالیں اس نسخے کاہفتے میں کم از کم دو مرتبہ استعمال دل کے لیے انتہائی مفید ہے۔ اسی طرح کھجوریں دودھ میں ڈال کر ساتھ چٹکی بھر الائچی کا سفوف اور شہد ملا کر استعمال کرنے سے صبح کو انتہائی طاقت ملتی ہے اور اعضائے تولید کی ناقص کارکردگی سے پیدا ہونے والا بانجھ پن بھی ختم ہو جاتا ہے۔ 100گرام کھجور میں 314 کیلوریز ہوتی ہیں اس میں 2گرام پروٹین 75گرام کاربوہائیڈریٹ 0.5گرام چکنائی اور 7گرام ریشہ یعنی پھوک ہوتا ہے اس میں 15فیصد پانی 2 فیصد معدنی اجزا کیلیشیم 120 ملی گرام آئرن 7.5 فاسفورس 50ملی گرام وٹامن سی اور وٹامن بی کمپلیکس کی قلیل مقدار موجود ہوتی ہے۔
0 تبصرہ جات
جدید میڈیکل سإئنس کی تازہ ترین معلومات


السلام علیکم
دوستو! آپ لوگوں کے لیے جدید میڈیکل سائنس کی بہت ساری معلومات لیکر حاضر ہوا ہوں جسے آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں۔

زہنی و نفسیاتی صحت کے لیے رہنما اصول

0 تبصرہ جات
زہنی و نفسیاتی صحت کے لیے رہنما اصول

سؤر و خنزیر کا گوشت حرام کیوں ہے؟

0 تبصرہ جات
سؤر و خنزیر کا گوشت حرام کیوں ہے؟

السلام علیکم۔
اس میں رتی برابر بھی شک و شبہ نہیں کہ اللہ تعالی اور اسکے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احکامات کے تحت حرام کردہ فہرست میں‌ہر چیز انسان کے لیے مضر ہے جبھی اسے حرام قرار دیا گیا اور حلال کردہ فہرست میں کسی نہ کسی حوالے سے یقینا خیر اور بھلائی ہے جبھی اسے حلال کیا گیا۔ کیونکہ اللہ تعالی اپنے بندوں پر سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک رحمۃ اللعالمین اور مومنین کے لیےہر طرح سے بہتری کے لیے حریص ہیں۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اِسلام اپنے ماننے والوں کو مذہب اور سائنس دونوں کا نور عطا کرتا ہے۔ اِس لئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اِسلام دُنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ دِین ہے، جو نہ صرف قدم قدم سائنسی علوم کے ساتھ چلتا نظر آتا ہے بلکہ تحقیق و جستجو کی راہوں میں سائنسی ذِہن کی ہر مشکل میں رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اسلامی احکامات کی سائنسی توجیہہ تلاش کرنا اور بیان کرنا کہیں بھی خلاف از اسلام نہیں بلکہ عین منشائے اسلام ہے۔ جدید دور میں اہم ضرورت ہے کہ نسل نو کو بالخصوص اور جدید ذہین کو بالعموم اسلامی احکامات میں موجود حکیمانہ معارف و رموز سے آگاہ کرکے انہیں اسلام کی Practical & Scientifical Approach اور قابل عمل ثابت کرکے انہیں اسلام کی عظمت و وسعت سے آگہی دی جائے۔ اور پھر مغربی معاشروں میں پیداشدہ مسلمان بچوں کی تعلیم و تربیت میں لاجک و ریزننگ ۔ Logic & Reasoningکا عنصر نمایاں ہوتا ہے وہ ہر بات کو عقل و دانش کی کسوٹی پر پرکھ کر قبول کرنا چاہتے ہیں۔
اللہ تعالی نے بھی قرآن حکیم میں انسانی نفسیات کے اس تقاضے کو مدنظر رکھتے ہوئے احکم الحاکمین ہونے کے باوجود اپنے احکامات کی عقلی توجیہہ بیان کرکے اپنے بندوں‌ یا ملائکہ کو مطمئن فرمایا ہے۔ قرآن حکیم میں سورہ البقرہ آیت 30-35 میں تخلیق آدم کے وقت ملائکہ کا اپنا تسبیح و تقدیس الہی کا بیان کرکے حضرت آدم کی خلافت پر فساد انگیزی وخونریزی کے مسئلے کا اٹھانا اور اسکے جواب میں اللہ تعالی کا حضرت آدم علیہ السلام (اور انسان) کی علمی برتری ثابت کرنا
وَعَلَّمَ آدَمَ الأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلاَئِكَةِ فَقَالَ أَنْبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَـؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
اس بات کا مظہر ہے کہ اللہ کریم نے فرشتوں پر حضرت آدم علیہ السلام کی علمی فضیلت کا اجاگر کرکے انہیں مطمئن کیا۔
اسی طرح حضرت ابراھیم علیہ السلام کا اپنے اطمینان قلب کے لیے اللہ تعالی سے سوال کرنا کہ میرے رب مجھے دکھا تو موت کے بعد کیسے زندہ کرتا ہے۔ اللہ تعالی نے پوچھا۔ کیا تم ایمان نہیں رکھتے۔ ابراھیم علیہ السلام نے عرض کیا۔ بےشک ایمان رکھتا ہوں۔ مگر اطمینان قلب چاہتا ہوں۔
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ رَبِّ أَرِنِي كَيْفَ تُحْيِـي الْمَوْتَى قَالَ أَوَلَمْ تُؤْمِن قَالَ بَلَى وَلَـكِن لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِي ۔۔۔۔ (القرآن ۔ 2:260)
اسی طرح کئی اور مثالیں ہیں جن میں اسلام کو بالجبر نافذ کرنے کی بجائے اسکے احکامات کی حکمتیں بیان کرکے عقلی و قلبی تسکین کے ذریعے نفاذ احکام کی ترغیب ملتی ہے۔

قرآن حکیم میں خنزیر کا حرام ہونا ۔

قرآن حکیم میں اللہ رب العزت نے متعدد مواقع پر خنزیر کو حرام قرار دیا ہے۔

إنما حرم عليكم الميتة والدم ولحم الخنزير وما أهل به لغير الله فمن اضطر غير باغ ولا عاد فلا إثم عليه إن الله غفور رحيم" (سورة البقرة الآية 173)


ترجمہ: اس نے تم پر صرف مُردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام پکارا گیا ہو حرام کیا ہے، پھر جو شخص سخت مجبور ہو جائے نہ تو نافرمانی کرنے والا ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا تو اس پر (زندگی بچانے کی حد تک کھا لینے میں) کوئی گناہ نہیں، بیشک اﷲ نہایت بخشنے والا مہربان ہے۔


ایک اور مقام پر فرمایا ۔


قُل لاَّ أَجِدُ فِي مَا أُوْحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلاَّ أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنْـزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللّهِ بِهِ ۔۔۔۔ (سورہ الانعام ۔ 145)

ترجمہ : آپ فرما دیں کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے اس میں تو میں کسی (بھی) کھانے والے پر (ایسی چیز کو) جسے وہ کھاتا ہو حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مُردار ہو یا بہتا ہوا خون ہو یا سؤر کا گوشت ہو کیو نکہ یہ ناپاک ہے یا نافرمانی کا جانور جس پر ذبح کے وقت غیر اﷲ کا نام بلند کیا گیا ہو ۔۔۔۔

اسی طرح ۔ سورہ النمل ۔ آیت 115، سورہ المائدہ ۔ آیت 3، میں بھی خنزیر کی حرمت کے واضح احکامات آئے ہیں۔


بائبل میں سؤر و خنزیر کی ممانعت ۔


مزے کی بات ہے کہ بائبل میں بھی خنزیر کے گوشت کی ممانعت موجود ہے ۔

You may not eat the meat of these animals (pig) or even touch their carcasses. They are ceremonially unclean for you.
Leviticus 11:8)؃)
اور تم سؤر اور اس طرح کے جانور کا گوشت نہ کھاؤ ۔ حتی کہ انکی مردہ لاش یا پنجر کو بھی مت چھوؤ۔ کیونکہ وہ غلیظ ہیں۔ Leviticus 11:8)؃)

لیکن چونکہ یورپی و مغربی معاشرہ مذہب سے انتہائی دور چلا گیا ہے اس لیے وہ اپنے الہامی کتاب کے احکامات کی پرواہ بھی نہیں کرتے۔البتہ ایونجالسٹ عیسائی جو نسبتا اپنے مذہب سے قریب ہیں وہ آج بھی خنزیر کا گوشت نہیں کھاتے۔


طبی طور پر مضر صحت گوشت ۔

سؤر یا خنزیر کے گوشت میں سائنسی و طبی اعتبار سے بےشمار خرابیاں ہیں ۔ جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

1۔سؤر دنیا کے چند غلیظ ترین جانوروں میں سے ایک جانور ہے جو کہ پیشاب و پاخانہ سمیت ہر گندی چیز کھاتا ہے۔ سائنسی تحقیق ثابت کرتی ہے کہ خوراک کا براہ راست اثر جسم پر ہوتا ہے ۔

2۔ خنزیر کے گوشت اور چکنائی میں زہریلے مادے جذب کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے اسکے گوشت و چکنائی میں زہریلے مادے عام جانوروں کے گوشت کے مقابلے میں 30 گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ گویا یہ گوشت بقیہ عام گوشت سے 30 گنا زیادہ زہریلا Toxinہوتا ہے۔
3۔ عام گوشت انسانی نظام ہضم میں 8سے 9 گھنٹے میں ہضم ہوتا ہےاور اسکے زہریلے مادے Toxinsانسانی جسم میں آہستہ آہستہ منتقل ہوتے ہیں جو کہ آسانی سے لیور کے ذریعہ فلٹر ہوجاتے ہیں۔ جبکہ خنزیر کا گوشت محض 4 گھنٹے میں ہضم ہونے سےاپنے 30 گنا زیادہ زہریلے مادے Toxins انسانی جسم میں عام گوشت کی نسبت آدھے وقت یعنی 4 گھنٹوں میں انسان کے جسمانی نظام کو منتقل کردیتا ہے۔ جسے مکمل طور پر فلٹر کرنا انسانی جگر Leverکے لیے مشکل ہوتاہے۔
4۔ عام جانوروں کے برعکس خنزیر یا سؤر میں پسینہ کا اخراج نہیں ہوتا۔ جس کی وجہ سے اسکے جسم کی نمکیات و زہریلے مادہ جات جسم سے خارج ہونے کی بجائے گوشت میں ہی موجود رہتے ہیں۔جو کھانے سے انسانی جسم میں‌باآسانی منتقل ہوکر بیماریوں کا باعث بنتے ہیں۔
5۔ سور اس قدر زہریلا ہوتا ہے کہ اژ دہے کے ڈسنے سے بھی نہیں مرتا۔ چنانچہ بعض اوقات سؤر فارم کے رکھوالے سؤروں کو اژدھوں کے بلوں کے پاس بھی چھوڑدیتے ہیں تاکہ اژدھے اس علاقے سے نکل جائیں۔
6۔ عام گوشت کے مقابلے میں خنزیر کے گوشت کے گلنے سڑنے کی رفتار 30 گنا زیادہ ہوتی ہے ۔ یعنی عام گوشت سے بہت جلدی خنزیر سے گوشت میں کیڑے پڑتے ہیں۔ تجربہ کے طور پرچکن یا گائے کے گوشت کا ٹکڑا اور خنزیر کا ٹکڑا کھلی جگہ پر رکھ کر دیکھ لیں کونسے گوشت میں جلد بدبواور کیڑے پڑتے ہیں۔ یہ لنک مشاہدہ کریں۔ www.metacafe.com/watch/447498
7۔ عام گائے کے گوشت کے مقابلے میں سؤر کے گوشت میں چکنائی Fat پائی جاتی ہے
3 اونس بیف سٹیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 8،5گرام چکنائی
3 اونس خنزیر سٹیک ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 18 گرام چکنائی
اسی طرح ۔
3 اونس بیف rib ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 11،1 گرام چکنائی
3 اونس خنزیر rib ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 23،2 گرام چکنائی
میڈیکل سائنس ثابت کرچکی ہے کہ زیادہ چکنائی ، براہ راست دل اور خون کی بیماریوں کی بنیادی وجہ ہے۔

8۔ عام جانوروں اور بالخصوص گائے کے نظام انہضام میں 4 مراحل ہونے کی وجہ سے کھائی گئی خوراک کم و بیش 24 گھنٹوں میں ہضم ہوتی ہے جس وجہ سے زہریلے مادے باآسانی فلٹر ہوکر گوشت یا خون میں شامل ہونے کی بجائے اسکے فضلات میں چلے جاتے ہیں‌جبکہ سؤر کا نظام انہضام انتہائی مختصر اور ڈائریکٹ ہونے کی وجہ سے 3۔4 گھنٹوں میں ہرطرح کی غلیظ خوارک ہضم ہوجاتی ہے ۔ دورانیہ مختصر ہونے کی وجہ سے خوارک کے زہریلے مادے فلٹر ہونے کی بجائے خون و گوشت میں منتقل ہوجاتے ہیں۔

9۔ خنزیر کے گوشت میں ایک کیڑا trichinae worm ہوتا ہے جو انتڑیوں ، مسلز، ریڑھ کی ہڈی یا دماغ تک پہنچ جائے تو دماغی بخار، گنٹھیا (جوڑوں کا درد)، وجع المفاصل (ہڈیوں کا درد)، تیزابیت معدہ، گردن توڑ بخار، مثانہ کی سوزش، بلڈ پریشر یا دل کے دورے کی بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔
اخلاقی خرابیاں ۔
طبی ضرب المثل ہے کہ ’’انسان وہی کچھ ہوتا ہے جو وہ کھاتا ہے‘‘ You are what you eat.
۔۔۔ سؤر گندگی و غلاظت میں ساری زندگی گذارتا ہے یعنی اسے غلاظت سے کراہت نہیں ہوتی۔ اسکا گوشت کھانے والے کے اندر بھی یہی خرابی پیدا ہوجاتی ہے
۔۔۔سؤر جنسی شہوت کا رسیا ہوتا ہے ۔ اسکا گوشت کھانے سے جنسی اشتہا تیزی سے بڑھتی ہے۔ انسان حرام حلال کی تمیز کیے بغیر اس جذبے کی تسکین چاہتا ہے
۔۔۔سؤر انتہا درجے کا بے غیرت جانور ہے۔ جنسی تسکین کے لیے نر و مادہ کوئی تمیز نہیں‌رکھتے۔ اسے کھانے والے معاشرے میں یہ خصوصیت باآسانی دیکھی جاسکتی ہے۔

امید ہے اگر ہم جدید سائنسی سوچ و فکر کے حامل ذہنوں کو مندرجہ بالا حقائق بتا کر پھر قرآن مجید میں خنزیر کی حرمت کے احکامات بتائیں گے تو یقینا اطمینان قلب و ذہن اور شرح صدر سے ان احکامات کی تعمیل پر آمادگی ہوجائے گی۔ان شاء اللہ العزیز۔

ناشتے میں انڈاکھانے سے دن بھربھوک کی شدت کم رہتی ہے، ماہرین طب

0 تبصرہ جات
ناشتے میں انڈاکھانے سے دن بھربھوک کی شدت کم رہتی ہے، ماہرین طب

واشنگٹن (اے پی پی) جو افراد ناشتے میں انڈے کھاتے ہیں ان کی پورے دن نہ صرف بھوک کی شدت کم رہتی ہے بلکہ دوپہر کے کھانے میں ان کی کیلریز کی ضرورت بھی کم رہ جاتی ہے۔ ایک امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں کی ریسرچ سے یہ بات سامنے آ رہی ہے کہ اعلیٰ معیار کے پروٹین کا کم استعمال نہ صرف زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے بلکہ اس کے انسانی صحت پر بھی بہترین اثرات ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ اعلیٰ پروٹین کم مقدار میں بھی اچھے نتائج دیتی ہے۔ خاص طور پر انڈوں کا استعمال بہترین نتائج دے سکتا ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ انڈے کا استعمال خواہ عمر کے کسی بھی حصے میں ہو وہ دوسری غذاؤں سے زیادہ مفید رہتا ہے۔

کم خوابی رشتے بگڑنے کا سبب بنتی ہے

0 تبصرہ جات
  کم خوابی رشتے بگڑنے کا سبب بنتی ہے
برطانیہ میں ایک اہم ادارے ’مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن‘ کی ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نیند کم آنا ایک اہم بیماری ہے جس کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ ’گریٹ برٹش سلیپ رپورٹ‘ میں کہا گيا ہے کہ ننید کی کمی اور خراب رشتے، توانائی کا کم ہونا اور توجہ مرکوز کرنے کی استطاعت ختم ہونے میں ربط پایا گیا ہے۔

یہ بات پہلے ہی معلوم ہوچکی ہے کہ صحیح طریقے سے نیند نہ آنے سے ڈپریشن، قوت دفاع میں کمی اور امراض قلب جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

اس سے پہلے برطانیہ میں ایک جائزے سے پتہ چلا تھا کہ برطانیہ تیس فیصد لوگ انسومینیا یعنی کم نیند آنے کی بیماری میں مبتلا ہیں۔

ہم اس ملک میں نیند کے مسائل کو اب بہت زيادہ نظرانداز نہیں کر سکتے ہیں۔ وہ ہماری صحت، اقتصادیات اور ہماری خوشیوں پر پر بری طرح اثر انداز ہورہے ہیں۔

اس رپورٹ کی تیاری کے لیے جو آن لائن سروے کیا گيا ہے اس میں تقریباً چھ ہزار آٹھ سو لوگوں نے حصہ لیا۔ برطانیہ میں اپنی نوعیت کا یہ سب سے بڑا سروے بتایا جا رہا ہے۔

اس میں حصہ لینے میں ان لوگوں نے زیادہ دلچسپی دکھائی جنہیں اپنی نیند کےتئیں تشویش لاحق تھی اور یہ پورے برطانیہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔

لیکن اس سے اچھی نیند اور کم خوابی کے درمیان جو خلاء ہے اس کے متعلق لوگوں کے تجربات کا پتہ ضرور چلتا ہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنہیں کم خوابی کی شکایت ہے ان کے رشتوں میں چار گنا مشکلات کا امکان ہے، تین گنا ان کے ڈپریشن کی شکایت ہونے کی گنجائش ہے اور تین گنا توجہ مرکوز کرنے میں مشکلیں آسکتی ہیں۔

مینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن میں سینیئر ریسرچر ڈاکٹر ڈین روبوتھم کا کہنا ہے کہ اس میں مبتلا افراد ایسی مشکل میں پھنس سکتے ہیں جہاں کم خوابی سے ان کا ذہنی بیماریوں کا شکار ہونے کا امکان ہے جو مزید نیند کی کمی کا باعث ہوسکتا ہے۔

’یہ اہم ہے کہ لوگ اس مشکل میں پھنسنے سے بچنے کے لیے اپنی نیند بہتر بنانے کے موثر طریقوں سے واقف ہوں۔‘

پرسکون رہنے کے جاندار اصول

0 تبصرہ جات
 پرسکون رہنے کے جاندار اصول
آواز کا بھی جسم پر اثر پڑتا ہے۔ ہر آواز کا جسم پر فوری ردِّعمل مرتب ہوتا ہے۔ آواز جس قدر تیز اور اونچی ہوتی ہے ہمارے جسم میں اتنی ہی زیادہ گرمی پیدا کرتی ہے اور اس بڑھی ہوئی گرمی سے کلاہِ گردہ کی رطوبت خون میں شامل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر یہ رطوبت زیادہ مقدار میں خون میں شامل ہو جائے تو اس طبیعت میں بے چینی اورتشویش پیدا ہونے لگتی ہے۔
تیز آواز سے آدمی مر بھی سکتا ہے۔ ماہرین آواز نے گرمی، سردی وغیرہ کی طرح آواز کے ماپنے کے آلے بھی بنائے ہیں۔ ہم عام طور پر چالیس درجے کی آواز سے گفتگو کرتے ہیں۔ ریڈیو عام طور پر پچاس اور ساٹھ درجے کی آواز پر بجائے جاتے ہیں۔ اتنی آواز کا جسم پر چنداں مضر اثر نہیں پڑتا۔ گھر کے کام میں عام طور پر اسی درجے کی آوازیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ یہ البتہ مضر ہوتی ہیں۔ قلب کے مریضوں کیلئے 80 درجے کی آواز نقصان رساں ہوتی ہے۔
گھر کی بعض لڑائیاں صرف اونچی آواز کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بعض عورتیں دن بھر چیخنے چلانے کی وجہ سے نڈھال اور بیمار رہتی ہیں۔ بعض لوگ دن بھر اونچی آواز سے ڈیک بجاتے رہتے ہیں۔ اتنی اونچی آواز دِ ل و دماغ کیلئے سخت مضر ہوتی ہے اور سکون بہم پہنچانے کے بجائے تھکے ہوئے حواس اور جسم کو اور زیادہ تھکا دیتی ہے۔
باہر کی آواز کا مسئلہ اور زیادہ دشوار ہے لیکن اس کو کم کرنا ناممکن نہیں ہے ہم عمارتوں کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ باہر کی آوازیں زیادہ نہ ستا سکیں۔ آواز کو کم تکلیف دہ بنانے میں فاصلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ گھر کا شوروغل کے مقامات سے دور ہونا صحت کیلئے بہتر ہے۔ اینٹوں کی دیواروں، جھاڑیوں کی باڑھ اور درختوں کی قطاروں سے آواز کو پانچ درجہ کم کیا جا سکتا ہے۔
اگر آپ کا مکان شوروغل کے مقام پر واقع ہے تو بیٹھنے اور سونے کے کمروں کو سڑک کی مخالف سمت میں ہونا چاہیے چھت اور دیواریں اگر ایسی ٹائلوں سے بنائی جائیں جو آواز کو جذب کر لیتی ہیں تو باہر کی آوازوں کی گونج بڑی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ فرش پر اگر دری یا چٹائی بچھا دی جائے تو یہ بھی آواز کو کم کرنے کیلئے ایک اچھی تدبیر ہے۔ گھر میں لوگوں کے چلنے سے بھی خاصی پریشان کن آواز پیدا ہوتی ہے۔ اوپر کی چھت پر اگر لوگ چلتے پھرتے ہوں تو اس پر موٹی دری یا قالین بچھا دینے سے قدموں کی آواز کو قابل برداشت بنایا جا سکتا ہے۔
ہم شوروغل کو کم کرکے اپنی توانائی کو بے فائدہ ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ تیز آوازوں سے ہمارے دِل و دماغ پر بڑا ناگوار اور مضر اثر پڑتا ہے۔ اس پُرآشوب زمانے میں لوگوں کے اعصاب ویسے ہی بہت تھکے ماندے اور ایذا رسیدہ ہوتے ہیں، اس پر شوروغل درد ناک جسم پر کوڑے کا کام کرتا ہے۔ توانائی انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی ہر قیمت پر حفاظت کی جانی چاہیے۔
آج کا دور ایسا دور ہے کہ انسان مسابقت کی جنگ میں مصروف ہے ایک انسان دوسرے انسان سے، ایک ملک دوسرے ملک سے آگے بڑھ جانے کیلئے بے چین ہے اس بے چینی نے سائنس کو غلط مفادات کیلئے استعمال کیا ہے مشینی دور نے جنم لیا ہے جس نے شوروغل کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ بڑے شہروں میں موٹروں، بسوں، موٹرسائیکلوں نے انسانی صحت و زندگی کیلئے بڑا شدید مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب شہروں میں کئی مقامات پر موٹروں کے ہارن بجانے پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں مگر قانون کی بالادستی کو عوام نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ آج بھی موٹروں کے ہارن بلا تامل و تکان بج رہے ہیں اور صحت کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
درحقیقت قانونِ وقت اور قانونِ فطرت دونوں کا احترام کرنا انسان کا فرض ہے۔ اگر حکومت نے بقائے صحت کیلئے ہارن بجانے کو ممنوع قرار دیا ہے تو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ قانونِ فطرت بھی یہ ہے کہ انسان اپنے افعال و اعمال میں نرمی برتے۔ آپ جو کام کرتے ہیں ان میں نرمی اختیار کرنی چاہیے۔ مثلاً اگر آپ دروازہ کھولتے یا بند کرتے ہیں تو اس میں نرمی برتیں، آواز اور شور کیے بغیر بھی دروازہ کھولا یا بند کیا جا سکتا ہے۔
اگر ہر انسان اپنی جگہ یہ فیصلہ کر لے کہ وہ شور کو کم سے کم کرے گا تو صرف اس ایک عمل سے صحت کا ایک بڑا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
شوروغل کو کم کرنے کیلئے حکومت اور عوام دونوں پر فرائض عائد ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ قانونِ حکومت موجود ہے کہ ریستورانوں وغیرہ پبلک مقامات پر لاﺅڈ اسپیکر وغیرہ اتنی بلند آواز سے نہیں بجایا جا سکتا کہ اپنی حد سے باہر آواز جائے۔ عوام کو اس کا احترام کرنا چاہیے اور آواز کو محدود کرنا چاہیے۔
موٹرسائیکل رکشہ کی آواز اور شور نے شہر میں صحت کا بڑا سنگین مسئلہ پیدا کیا ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اس مسئلے کا صحیح حل تلاش کرنا چاہیے اور بے آواز ٹرانسپورٹ کے بارے میں غور کرنا چاہیے۔ بلاشبہ سواری کا انتظام ہونا چاہیے۔ اس کیلئے انتظامیہ کو صحیح فیصلے کرنے چاہئیں۔
غرض شور وغل انسانی صحت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اس خطرے کو ہر انسان کم اور کم تر کر سکتا ہے یہ شرط ہے کہ وہ فیصلہ کر لے کہ اس کے کام و عمل سے کم از کم آواز پیدا ہوگی۔

دن میں تین کیلے کھانے سے فالج کے خطرات کم ہوجاتے ہیں،

0 تبصرہ جات

دن میں تین کیلے کھانے سے فالج کے خطرات کم ہوجاتے ہیں،
یورپین یونیورسٹی کی تحقیق


لندن … یورپی سائنس دانوں کی نئی تحقیق کے مطابق پوٹاشیم سے بھرپورکیلا دن میں تین بار کھائیں اور خود کو فالج کے خطرات سے کوسوں دور رکھیں۔اطالوی اور برطانوی یونی ورسٹیز کی تحقیق کے مطابق کیلے میں بھرپور پوٹاشیم پایاجاتا ہے جو دماغ میں خون کو حد سے زیادہ گاڑھا ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق دن میں تین بار یعنی صبح ، دوپہر اورشام، کیلا کھانے سے فالج کے خطرات اکیس فی صد تک کم ہوسکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق کیلے میں تقریباً پانچ سو ملی گرام پوٹاشیم پایاجاتاہے جو بلڈ پریشر نارمل رکھنے میں مدد دیتاہے
Pak Urdu Installer

فیس بک پر ہمارا صفہ

اپنے فیس بک پر لکھیں

مہمان ممالک

free counters