اسلام علیکم
محترم مہمان آپ کا
urduyahoo.blogspot.com
پر آنے کا بہت بہت شکریہ
اس بلاگ میں آپ کو اگر کوئی غلطی نظر آئے یا اس کی بہتری کے لئے اگر کوئی تجویز بھی دینا چاہیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے
اور اگر آپ کوئی تحریر شائع کروانا چاہتےہیں تو آپ ہمیں ای میل کریں
ؑEmail : jinnah332@yahoo.com
پرسکون رہنے کے جاندار اصول
آواز کا بھی جسم پر اثر پڑتا ہے۔ ہر آواز کا جسم پر فوری ردِّعمل مرتب ہوتا ہے۔ آواز جس قدر تیز اور اونچی ہوتی ہے ہمارے جسم میں اتنی ہی زیادہ گرمی پیدا کرتی ہے اور اس بڑھی ہوئی گرمی سے کلاہِ گردہ کی رطوبت خون میں شامل ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اگر یہ رطوبت زیادہ مقدار میں خون میں شامل ہو جائے تو اس طبیعت میں بے چینی اورتشویش پیدا ہونے لگتی ہے۔
تیز آواز سے آدمی مر بھی سکتا ہے۔ ماہرین آواز نے گرمی، سردی وغیرہ کی طرح آواز کے ماپنے کے آلے بھی بنائے ہیں۔ ہم عام طور پر چالیس درجے کی آواز سے گفتگو کرتے ہیں۔ ریڈیو عام طور پر پچاس اور ساٹھ درجے کی آواز پر بجائے جاتے ہیں۔ اتنی آواز کا جسم پر چنداں مضر اثر نہیں پڑتا۔ گھر کے کام میں عام طور پر اسی درجے کی آوازیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔ یہ البتہ مضر ہوتی ہیں۔ قلب کے مریضوں کیلئے 80 درجے کی آواز نقصان رساں ہوتی ہے۔
گھر کی بعض لڑائیاں صرف اونچی آواز کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بعض عورتیں دن بھر چیخنے چلانے کی وجہ سے نڈھال اور بیمار رہتی ہیں۔ بعض لوگ دن بھر اونچی آواز سے ڈیک بجاتے رہتے ہیں۔ اتنی اونچی آواز دِ ل و دماغ کیلئے سخت مضر ہوتی ہے اور سکون بہم پہنچانے کے بجائے تھکے ہوئے حواس اور جسم کو اور زیادہ تھکا دیتی ہے۔
باہر کی آواز کا مسئلہ اور زیادہ دشوار ہے لیکن اس کو کم کرنا ناممکن نہیں ہے ہم عمارتوں کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ باہر کی آوازیں زیادہ نہ ستا سکیں۔ آواز کو کم تکلیف دہ بنانے میں فاصلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ گھر کا شوروغل کے مقامات سے دور ہونا صحت کیلئے بہتر ہے۔ اینٹوں کی دیواروں، جھاڑیوں کی باڑھ اور درختوں کی قطاروں سے آواز کو پانچ درجہ کم کیا جا سکتا ہے۔
اگر آپ کا مکان شوروغل کے مقام پر واقع ہے تو بیٹھنے اور سونے کے کمروں کو سڑک کی مخالف سمت میں ہونا چاہیے چھت اور دیواریں اگر ایسی ٹائلوں سے بنائی جائیں جو آواز کو جذب کر لیتی ہیں تو باہر کی آوازوں کی گونج بڑی حد تک کم ہو جاتی ہے۔ فرش پر اگر دری یا چٹائی بچھا دی جائے تو یہ بھی آواز کو کم کرنے کیلئے ایک اچھی تدبیر ہے۔ گھر میں لوگوں کے چلنے سے بھی خاصی پریشان کن آواز پیدا ہوتی ہے۔ اوپر کی چھت پر اگر لوگ چلتے پھرتے ہوں تو اس پر موٹی دری یا قالین بچھا دینے سے قدموں کی آواز کو قابل برداشت بنایا جا سکتا ہے۔
ہم شوروغل کو کم کرکے اپنی توانائی کو بے فائدہ ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ تیز آوازوں سے ہمارے دِل و دماغ پر بڑا ناگوار اور مضر اثر پڑتا ہے۔ اس پُرآشوب زمانے میں لوگوں کے اعصاب ویسے ہی بہت تھکے ماندے اور ایذا رسیدہ ہوتے ہیں، اس پر شوروغل درد ناک جسم پر کوڑے کا کام کرتا ہے۔ توانائی انسان کا سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ اس کی ہر قیمت پر حفاظت کی جانی چاہیے۔
آج کا دور ایسا دور ہے کہ انسان مسابقت کی جنگ میں مصروف ہے ایک انسان دوسرے انسان سے، ایک ملک دوسرے ملک سے آگے بڑھ جانے کیلئے بے چین ہے اس بے چینی نے سائنس کو غلط مفادات کیلئے استعمال کیا ہے مشینی دور نے جنم لیا ہے جس نے شوروغل کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ بڑے شہروں میں موٹروں، بسوں، موٹرسائیکلوں نے انسانی صحت و زندگی کیلئے بڑا شدید مسئلہ پیدا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب شہروں میں کئی مقامات پر موٹروں کے ہارن بجانے پر پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں مگر قانون کی بالادستی کو عوام نے تسلیم نہیں کیا ہے۔ آج بھی موٹروں کے ہارن بلا تامل و تکان بج رہے ہیں اور صحت کیلئے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
درحقیقت قانونِ وقت اور قانونِ فطرت دونوں کا احترام کرنا انسان کا فرض ہے۔ اگر حکومت نے بقائے صحت کیلئے ہارن بجانے کو ممنوع قرار دیا ہے تو اس کا احترام کرنا چاہیے۔ قانونِ فطرت بھی یہ ہے کہ انسان اپنے افعال و اعمال میں نرمی برتے۔ آپ جو کام کرتے ہیں ان میں نرمی اختیار کرنی چاہیے۔ مثلاً اگر آپ دروازہ کھولتے یا بند کرتے ہیں تو اس میں نرمی برتیں، آواز اور شور کیے بغیر بھی دروازہ کھولا یا بند کیا جا سکتا ہے۔
اگر ہر انسان اپنی جگہ یہ فیصلہ کر لے کہ وہ شور کو کم سے کم کرے گا تو صرف اس ایک عمل سے صحت کا ایک بڑا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔
شوروغل کو کم کرنے کیلئے حکومت اور عوام دونوں پر فرائض عائد ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ قانونِ حکومت موجود ہے کہ ریستورانوں وغیرہ پبلک مقامات پر لاﺅڈ اسپیکر وغیرہ اتنی بلند آواز سے نہیں بجایا جا سکتا کہ اپنی حد سے باہر آواز جائے۔ عوام کو اس کا احترام کرنا چاہیے اور آواز کو محدود کرنا چاہیے۔
موٹرسائیکل رکشہ کی آواز اور شور نے شہر میں صحت کا بڑا سنگین مسئلہ پیدا کیا ہوا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے اس مسئلے کا صحیح حل تلاش کرنا چاہیے اور بے آواز ٹرانسپورٹ کے بارے میں غور کرنا چاہیے۔ بلاشبہ سواری کا انتظام ہونا چاہیے۔ اس کیلئے انتظامیہ کو صحیح فیصلے کرنے چاہئیں۔
غرض شور وغل انسانی صحت کیلئے بڑا خطرہ ہے۔ اس خطرے کو ہر انسان کم اور کم تر کر سکتا ہے یہ شرط ہے کہ وہ فیصلہ کر لے کہ اس کے کام و عمل سے کم از کم آواز پیدا ہوگی۔
دن میں تین کیلے کھانے سے فالج کے خطرات کم ہوجاتے ہیں،
یورپین یونیورسٹی کی تحقیق
لندن … یورپی سائنس دانوں کی نئی تحقیق کے مطابق پوٹاشیم سے بھرپورکیلا دن میں تین بار کھائیں اور خود کو فالج کے خطرات سے کوسوں دور رکھیں۔اطالوی اور برطانوی یونی ورسٹیز کی تحقیق کے مطابق کیلے میں بھرپور پوٹاشیم پایاجاتا ہے جو دماغ میں خون کو حد سے زیادہ گاڑھا ہونے سے روکنے میں مدد دیتا ہے۔سائنس دانوں کے مطابق دن میں تین بار یعنی صبح ، دوپہر اورشام، کیلا کھانے سے فالج کے خطرات اکیس فی صد تک کم ہوسکتے ہیں۔تحقیق کے مطابق کیلے میں تقریباً پانچ سو ملی گرام پوٹاشیم پایاجاتاہے جو بلڈ پریشر نارمل رکھنے میں مدد دیتاہے
موبائل ٹیکنولوجی اور انٹرنیٹ کا استعمال

پاکستان میں موبائل فون سروسز اور ٹیکنولوجی کی آمدسنہ نوے کی دہائی میں ہوئی جب پاک ٹیل اور انسٹا ون کمپنی نے ایمس سیٹس کے ذریعے موبائل سروسزکی فراہمی شروع کی۔ پاکستان میںموبائل فونز کا استعمال ابتداءمیں بہت کم تھا جس کی سب سے بڑی وجہ ایس ایم ایس اور کال ریٹس کے علاوہ بے تہاشہ ٹیکسز تھے، بہت کم لوگ تھے جنہوں نے موبائل فون رکھا ہوا تھا۔ موجودہ دور میں موبائل فون سروسز ابتداءکی نسبت اب بہت سستی ہیں، کمپنیز نے ایس ایم ایس اور کال پیکجز متعارف کروا دیئے ہیں جن کے باعث ایس ایم ایس اور کال ریٹس بہت سستے پڑتے ہیں۔ موبائل فون سروسز کا آغاز کرنے والی کمپنی انسٹاون پاکستان میں اپنا بزنس ختم کرچکی ہے جبکہ پاک ٹیل چائنہ کی کمپنی زونگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ان کمپنیز کے بند ہونے کی وجہ ایمس سیٹس کے استعمال کا پاکستان میں ختم ہو گیا ہے۔ پاکستان نے موبائل ٹیکنولوجی میں گزشتہ دس سالوں میںاچھا خاصا مقام حاصل کر لیا ہے۔
پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ موبائل فون ٹیکنولوجی مقبول ہوتی جا رہی ہے۔ پاکستان میں موبائل فون صارفین کی تعداد 98 ملین سے زائد ہے اور اس تعداد میں ہر سال تین سے چار لاکھ اضافہ ہورہا ہے۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان موبائل فون مارکیٹ کے حوالے سے دنیا میں کیا مقام رکھتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان ایشیائی ممالک میں موبائل فون استعمال کرنے والوں کے لحاظ سے پانچویںنمبر پر شمار کیا جاتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں موبائل سروسز فراہم کرنے والی پانچ کمپنیاں کام کر رہی ہیں اور روزانہ لاکھوں کا زرمبادلہ کما رہی ہیں۔ ان کمپنےوں میں موبی لنک، یوفون، ٹیلی نور، وارد اور زونگ شامل ہیں۔ ہمارے ملک میں موبائل فون ٹیکنولوجی اتنی عام ہو چکی ہے کہ کاروباری لوگ، گھریلو عورتیں، لڑکیاں، لڑکے، بزرگ اور بچوں تک کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ دنیا بھی متعدد کمپنیاں پاکستان میں موبائل فون سروسز فراہم کرنے کی خواہش مند ہیں۔ پاکستان کی آبادی کے لحاظ سے موبائل فون صارفین کی تعداد زیادہ معلوم ہوتی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ ہر آدمی کا دو سے تین عدد موبائل فون کا استعمال کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان کی 75 فیصد آبادی موبائل فون کا استعمال کرتی ہے۔ پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ سا تھ موبائل فون صارفین کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ موبائل فون کی مقبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موبائل سروسز کی ابتداءمیں کنکشن لینے کے لئے ہزاروں روپے لگ جایا کرتے تھے جبکہ اب دو سو سے تین سو میںموبائل سیم خریدی جا سکتی ہے۔
ملک میں نوکیا، سونی اریکسن، سیم سنگ، ایل جی اور متعدددوسری چائنہ کی کمپنیز کے موبائل فونز کا استعمال کیا جاتا ہے ۔پاکستان موبائل فون کی بڑی مارکیٹ میں شمار کیا جاتا ہے اس کے باوجود ابھی تک پاکستان نے اپنا کوئی موبائل فون سیٹ نہیں بنایا۔ ہم نے ملک میں موبائل مارکیٹ پر تو عبور حاصل کر لیا مگر ملکی سطح پرموبائل ٹیکنولوجی کو بنانے پر زور نہیں دیا۔موبائل سروسز فراہم کرنے والی کمپنیوں نے نئے نئے پیکجز مہیا کرنے شروع کردیئے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں مزید ترقی کرتا جا رہا ہے۔ انسانی تاریخ کا جائزہ لینے سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ انسان ہمیشہ نئی سوچ اور چیزوں کی جانب راغب رہا ہے اور اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اس نے مختلف ایجادات کیں ہیں۔ انٹرنیٹ بھی ایک ایسی ہی ایجاد ہے جس نے انسانی طرز زندگی پر انقلابی اثرات چھوڑے ہیں۔ انٹرنیٹ دور حاضر میں گھر بیٹھے معلومات حاصل کرنے، محفوظ کرنے اور اپنے عزیز رشتہ داروں سے بات کرنے کا بہترین ذریعہ ہے، کیسی بھی معلومات لینی ہوں انٹرنیٹ کے ذریعہ سب جانکاری لی جا سکتی ہے، معلومات کو محفوظ کرنے کے لئے ویب سائٹس جبکہ بات چیت کے لئے بے شمار لنکس موجود ہیں۔ آج کل متعدد ایسی یونیورسٹیاں وجود میںآچکی ہیں جو تعلیم انٹرنیٹ کے ذریعے فراہم کر رہی ہیں۔ ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے سروسز فراہم کرنے والی کمپنےوں نے انٹرنیٹ سروس موبائل پر فراہم کر دی ہے جس کا صارفین کو بہت فائدہ ہو رہا ہے۔جہاں لوگوں کو ای میلز، چیٹنگ اور معلومات کے لئے کمپیوٹر کا استعمال کرنا پڑتا تھا اب با آسانی چھوٹی سی ٹیکنولوجی کی بدولت کہیں بھی انٹرنیٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ہم کمپیوٹر کو کہیں بھی ساتھ نہیں لے جا سکتے اور نہ ہی اسے جیب میںرکھ سکتے ہیں، موبائل فون کہیں بھی لے جایا جا سکتا ہے اور اس کا وزن بھی کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ کے مقابلے میںبہت کم ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 74 فیصد سیمبین پاور ہینڈ سیٹس انٹرنیٹ کے لئے استعمال کئے جا رہے ہیں جبکہ پانچ ملین صارفین موبائل جی پی آر ایس کا استعمال کر رہے ہیں۔
کمپیوٹر کی چِپ بنانے والی کمپنی اےنٹل کا کہنا ہے کہ موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال اگلے چار سالوں میں کئی گنا بڑھ جائے گا۔ اےنٹل کی تحقیق کے مطابق 2012ءتک موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال ایک اعشاریہ دو بلین ہو جائے گا۔ چونکہ لوگوں کو انٹرنیٹ کی ضرورت ہے اس لیے وہ چاہیں گے کہ صرف اےک جگہ بےٹھ کران کو انٹرنیٹ مہیا نہ ہو بلکہ ہر جگہ ہو۔
کاروباری افراد کی زندگی بہت مصروف ہوتی ہے اور وہ اپنا ایک منٹ بھی ضائع نہیں کر سکتے ہیں، موبائل انٹرنیٹ کی بدولت ایسے افراد کہیں بھی بیٹھ کر انٹرنیٹ کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ملک میں تھری جی موبائل فون سروسز کے اجراءکا جلد امکان ہے، ان سروسز کے آغاز کے بعد انٹرنیٹ کی رفتار اور دیگر سہولتوں میں مزید بہتری آ جائے گی جو کہ موبائل فون انٹرنیٹ کے استعمال میں مزید اضافہ کر دے گی۔ اس کے علاوہ ملک میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع پیدا ہوں گے ۔
آج انٹرنیٹ لاکھوں کمپیوٹر اور مختلف نوعیت کے مواد سے لدے کروڑوں ویب پیجزپر مشتمل ایک ایسے بڑے کمپیوٹر نیٹ ورک کی صورت اختیار کرچکا ہے جس سے کوئی بھی انٹر نیٹ کی سمجھ رکھنے والا شخص اپنی انگلیوں کی ذرا سی جنبش سے معلومات کے ایک وسیع سمندر سے مستفید ہوسکتا ہے۔انٹرنیٹ پر چیٹ، ای میل، وائس اور آئی پی وغیرہ جیسے مواصلاتی ذرائع کی بدولت دنیا نہ صرف سمٹ کر رہ گئی ہے بلکہ اس نے معلومات کی نشر واشاعت کے نظرےہ کو نئے طرز پر استوار کیا ہے۔
موبائل فون انٹرنیٹ کے ذریعے کہیں بھی بیٹھ کر انٹرنیٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ اپنی گھر کی چھت پر بیٹھے ہوں یا کھانے کی ٹیبل پر آپ موبائل فون کے ذریعے چیٹنگ اورمیلز کو با آسانی چیک کر سکتے ہیں۔ دور حاضر میں ملک بجلی کے شدیدمسائل سے دو چار ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ عام بات ہے، ایسی صورتحال میںبجلی کا استعمال کئے بغیر موبائل جی پی آر ایس سے انٹرنیٹ کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔
بلب انٹر نیٹ کنکشن فراہم کرے گا
جلد ہی بلب کے ذریعے وائرلیس انٹرنیٹ براڈ کاسٹنگ شروع ہو گی۔ ہیرا لڈہاز بیت بڑے ماہر طبعیات ہیں اور انہوں نے اس مقصد کے لئے ٹیکنالوجی تیار کی ہے ، اس طرح عام بلب سے ڈاٹا براڈ کاسٹ ہو کرے گاجب آپ بلب روشن کریں گے تو انٹرنیٹ کنکشن بھی آن ہو جائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کو انہوں نے ڈبل LIFI کا نام دیا ہے یعنی LIGHTFIDELITY یہ ٹی وی سے وائرلیس ڈیٹا بھی بھیجے گا ۔ پروفیسر ہاز برطانیہ کے ایڈنبرا یونیورسٹی اسکول آف انجینئرنگ میں پڑھاتے ہیں،فی الوقت اس ٹیکنالوگی کے ذریعے ریڈیائی لہروں سے کام لیا جارہا ہے جو ناکافی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں 40 ارب لائٹ بلب استعمال ہو رہے ہیں جب موجودہ INCANDELSCENT ماڈلز کی جگہ LED بلب استعمال ہوں گے تو پروفیسر کا دعوٰی ہے کہ وہ ان سب کو انٹرنیٹ ٹرانسمیٹر میں تبدیل کر دے گا۔
اس ایجاد کا نام ڈی لائٹ رکھا گیا ہے اس کے ذریعے فی سیکنڈ دس میگا بائٹس جتنا ڈاٹا بھیجا جا سکتا ہے، یہ عام براڈ بینڈ کنکشن کی رفتار ہے۔ اس کا وسیع اور مفید استعمال گھروں کے ساتھ ہسپتالوں، طیاروں، فوجی مقاصد اور زیر آب بھی ہو گا طیارے کے بلب سے جو سگنلز ملیں گے، مسافر انہی کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کر لیا کریں گے۔
بے وقوف کمپیوٹر!

باقی دنیا نے تو روزمرہ زندگی سہل، شفاف اور باقاعدہ و بااعتبار کرنے کے لیے اپنے اداروں اور انتظام و انصرام کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اس کے پھل سمیٹنے شروع کردیے ہیں لیکن پاکستان میں کمپیوٹرائزیشن نے زندگی جتنی آسان کی ہے اتنی ہی مشکل بھی بنا دی ہے۔
کیونکہ کمپیوٹر کو یہ تمیز تو ہے کہ مواد اور اعداد و شمار سے کس طرح ترتیب وار کھیلنا ہے لیکن اب تک کوئی ایسا کمپیوٹر ایجاد نہیں ہوا جو بدنیتی و جہالت سے پر مواد کو خالص و ایماندارانہ ڈیٹا سے الگ کر کے مرتب کر سکے۔
مثلاً جب پرویز مشرف دور میں نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) تشکیل دی گئی تو بتایا گیا کہ اب اغلاط و جعلسازی سے پاک شناختی کارڈ ، پاسپورٹ اور ووٹرز لسٹیں تیار ہوں گی اور کوئی فراڈ یا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا اور دستاویزات کو جل نہیں دے سکے گا۔گو کسی حد تک ایسا ہوا بھی، لیکن جعلسازوں نے بھی اپنے طور طریقے جدیدیا لیے۔ اگر پہلے کوئی افغان ، برمی بنگلہ دیشی یا عرب باشندہ غیر مشینی شناختی کارڈ پانچ ہزار روپے اور ہاتھ سے لکھا پاکستانی پاسپورٹ پچیس ہزار میں بنوا لیتا تھا تو آج اسے یہی سودا بیس ہزار سے ایک لاکھ روپے میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ و پاسپورٹ کی صورت میں مل جاتا ہے۔
ریلوے کی ٹکٹنگ کا نظام بھی بڑے شہروں کی حد تک کمپیوٹرائزڈ کرنے کی کوشش کی گئی۔مگر یار لوگوں نے اس نظام کو جل دینے کے طریقے بھی نکال لیے۔ محمد رمضان کے نام پر کمپیوٹرائزڈ بکنگ سلپ بنتی ہے اور کسی ضرورت مند محمد اسلم کو یہ سلپ فروخت کرکے بطور محمد رمضان سفر کروا دیا جاتا ہے یا اگر اصلی محمد اسلم کسی سبب اپنا ٹکٹ استعمال نا کرسکا تو اس کی جگہ کسی غلام حسین کو کراچی سے لاہور کے ڈبے میں بٹھا دیا جاتا ہے اور گیارہ سو کلومیٹر کا پورا کرایہ جیب میں ڈال کر میاں چنوں سے لاہور کی سو کلو میٹر کی ٹکٹ بنا دی جاتی ہے ۔غلام حسین بھی خوش اور ٹکٹ ایگزامنر بھی خوش اور قومی خزانہ ناخوش ۔
پھر جعلی ڈرائیونگ لائسنسوں کے خاتمے کے لیے کمپیوٹرائزڈ لائسنس جاری ہونے شروع ہوئے۔ بس اتنا ہوا کہ پہلے جو لرننگ لائسنس ہاتھ سے بنتا تھا اب کمپیوٹر سے بنتا ہے اور اس کے فوراً بعد باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس بھی کمپیوٹرائزڈ بنا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ ڈرائیونگ ٹیسٹ لینا نا لینا آج بھی ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے۔ کمپیوٹر تو صرف ایک تابعدار منشی ہے۔
لیکن سب سے بڑا کمپیوٹر گیم تعلیم کے شعبے میں ہورہا ہے۔ پہلے طالبِ علم کے نمبر ہاتھ سے تبدیل ہوتے تھے اب کی بورڈ سے تبدیل ہوتے ہیں۔ پہلے امتحانی پرچوں کی جانچ اساتذہ خود کرتے تھے اب کمپیوٹر کو ٹھیکے پر دے دیے جاتے ہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
مثلاً اس سال صوبہ پنجاب میں انٹرمیڈیٹ سالِ اوّل کے جو کمپیوٹرائزڈ امتحانی نتائج سامنے آئے ان پر کمپیوٹر ٹیکنولوجی بھی ششدر ہے۔ جس مضمون میں پریکٹیکل نہیں ہوتا اس مضمون میں کمپیوٹر نے پریکٹیکل نمبر دے دیے۔ اکنامکس کا پرچہ دینے والے بچے کو بیالوجی میں کامیاب دکھا دیا گیا اور بیالوجی والے نے فلاسفی میں اے گریڈ لے لیا۔ جس نے انگریزی کا پرچہ دیا اسے صفر ملا اور جس نے انگریزی کا پرچہ نہیں دیا اسے انگریزی میں بیالیس نمبر مل گئے۔
ظاہر ہے طلبا نے مشتعل ہوکر توڑ پھوڑ شروع کردی۔ چنانچہ پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی صوبے کے تمام انٹرمیڈیٹ بورڈز کے کمپیوٹرائزڈ نتائج منسوخ کر کے نئے سرے سے نتائج مرتب کرنے کا اعلان کرنا پڑا اور انٹرمیڈیٹ سالِ اول کے تمام طلبا کو تالیفِ قلب کے لیے اگلے درجے میں ترقی دینے کا فیصلہ بھی زیرِ غور ہے۔
کیا اس دنیا کا کوئی سٹیو جابز ایسا کمپیوٹر یا کوئی بل گیٹس ایسی ونڈو متعارف کروا سکتا ہے جو غلط ڈیٹا کی انٹری اور بدنیت پروگرامر کا ہاتھ پہچان سکے اور ذہن پڑھ سکے۔
جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا پاکستان اور پاکستان جیسے درجنوں ممالک کمپیوٹر ایج میں تو داخل ہو سکتے ہیں لیکن کمپیوٹرائزڈ ایج میں نہیں۔۔۔