اسلام علیکم

محترم مہمان آپ کا
urduyahoo.blogspot.com
پر آنے کا بہت بہت شکریہ
اس بلاگ میں آپ کو اگر کوئی غلطی نظر آئے یا اس کی بہتری کے لئے اگر کوئی تجویز بھی دینا چاہیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے
اور اگر آپ کوئی تحریر شائع کروانا چاہتےہیں تو آپ ہمیں ای میل کریں
ؑEmail : jinnah332@yahoo.com



اسلام میں خلافت کا نظام

0 تبصرہ جات
 اسلام میں خلافت کا نظام
خلافت کا مضمون موٹے طور پر مندرجہ ذیل شاخوں میں تقسیم شدہ ہے۔ (۱) خلافت کی تعریف (۲) خلافت کی ضرورت (۳) خلافت کا قیام (۴) خلافت کی علامات (۵) خلافت کے اختیارات (۶) خلافت سے عزل کا سوال اور (۷) خلافت کا زمانہ۔ میں ان سب کے متعلق مختصر فقرات میں جواب دینے کی کوشش کروں گا۔ واللہ الموفق والمستعان۔

شریعت کے مقررکردہ فطری حقوق

0 تبصرہ جات
 شریعت کے مقررکردہ فطری حقوق

تاليف : محمد بن صالح العثيمين
ترجمہ : ابو المکرم عبد الجلیل
نظر ثانی : شفیق الرحمن ضیاء اللہ مدنی - محمد اقبال عبد العزیز
اصدارات : دفتر تعاون برائے دعوت وتوعية الجاليات سلطانہ رياض
مختصر بیان: شریعت اسلامى کی بے شمار خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اسمیں عدل وانصاف کا خاص خیال رکھا گیا ہے’اورعدل کا تقاضا یہ ہے کہ ہرصاحب حق کو اسکا حق دیا جائے اورہر صاحب منزلت کو اسکا مقام عطا کیا جائے.زير مطالعہ کتاب میں شیخ محمد بن صالح العثیمین -رحمہ اللہ- نے چند ایسے حقوق ذکر کئے ہیں جو تقاضائے فطرت کے موافق اور کتاب وسنت سے ثابت ہیں ’ جنکا جاننا اور اسکے مطابق عمل کرنا انسان کیلئے انتہائی ضروری ہے’اور وہ حقوق مندرجہ ذیل ہیں:1 -اللہ تعالى کے حقوق 2- نبى کریم صلى اللہ علیہ وسلم کے حقوق 3- والدین کے حقوق 4-اولاد کے حقوق 5- رشتہ داروں کے حقوق 6- میاں بیوى کے حقوق 7- حکام اور رعایا کے حقوق 8-پڑوسیوں کے حقوق 9- عام مسلمانوں کے حقوق 10- غیر مسلموں کے حقوق.

مقاصدِ شریعت

0 تبصرہ جات
مقاصدِ شریعت


2ym95y8

اللہ تعالیٰ نےاپنےبندوں کو جو احکام دیےہیں، ان سےسراسر بندوں ہی کی بھلائی مقصود ہے، اللہ تعالیٰ کو اپنےبندوں سےکچھ نہیں لینا، وہ ’’الصمد‘‘ ، یعنی ہر لحاظ سےبےنیاز ہے۔  بعض احکام دیتےہوئےاُن کےمقاصد کی جانب توجہ دلائی گئی ہے، اور بعض کےمقاصد کی تفہیم اولوالالباب پر چھوڑدی گئی ہے۔  یہ بات شروع سےاہل علم کےسامنےواضح رہی ہے، اور وہ مصالح مرسلہ، اسرار،  شریعت، معانی وحکم اور مقاصد شریعت جیسی اصطلاحات کےتحت شرعی احکام وفرائض کےمقاصد پر روشنی ڈالتےرہےہیں، تاہم یہ بات بھی واضح ہےکہ شریعت کےعمومی مقاصد کی تعیین اہلِ علم کےغور وفکر پر مبنی ہے، منزل من اللہ ہرگز نہیں۔ آج کےتناظر میں ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی نے’’مقاصدِ شریعت‘‘ پر غوروفکر کیا، اور اس کےحاصل کوسلسلۂ مقالات کی شکل میں پیش کیاجوپہلےادارہ تحقیقات اسلامی۔ اسلام آباد کےسہ ماہی مجلے’’فکرو نظر‘‘ میں اشاعت پذیر ہوئے، اور اب اپنی افادیت کےپیش نظر کتاب کی شکل میں پیش کیےگئےہیں۔
ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی یوںتو علی گڑھ (بھارت) کےرہنےوالےہیں، لیکن وہ اپنی فکرودانش کےحوالےسےپورےعالمِ اسلام کا اثاثہ ہیں۔ اسلامی معیشت کےمختلف پہلووں پر اُن کی اردو اور انگریزی تحریرات متداول ہیں، اور امتِ مسلمہ کو درپیش مسائل پر اُن کی رائےکو توجہ سےسُنا جاتا ہے۔ فاضل مصنف کی زیرنظر کتاب ان آٹھ ابواب پر مشتمل ہے:

  1. مقاصدشریعت: ایک عصری مطالعہ
  2. قاصدِ شریعت کی روشنی میں معاصر اسلامی مالیات کا جائزہ
  3. مقاصد شریعت اور مستقبلِ انسانیت
  4. مقاصد شریعت :فہم وتطبیق
فاضل مصنف نےکتاب کی ابتدائی بحثوں میں مقاصد شریعت کی اصطلاح کا تاریخی پس منظر بیان کیا ہے۔ اُن کےمطالعہ وتحقیق کےمطابق سب سےپہلےامام الحرمین جوینی (م۴۷۸ھ/ ۱۰۸۵ء) نےیہ اصطلاح استعمال کی۔ انہوں نےسلجوقی حکمرانوں الپ ارسلان اور ملک شاہ  کےوزیرمملکت نظام الملک طوسی (م ۴۸۵ھ/۱۰۹۲ء) کو تدبیر مملکت کےسلسلےمیںمشورہ دیتےہوئےمقاصدشریعت کا حوالہ دیا۔ اُس زمانےمیںیہ مسئلہ درپیش تھا کہ اگر ملک خطرےمیںہو،اور خرانہ خالی ہو تو دفاعی اغراض کےلیےامیر لوگوںسےعشر وزکوٰۃ کےعلاوہ مزیدمال لیا جا سکتا ہےیانہیں؟ امام جوینی نےواضح کیا کہ شریعت کےکلی مصالح یا مقاصد کوپیشِ نظر رکھنا ضروری ہے،اس لیےاہل ثروت کی مرضی کےبرخلاف بھی اُن کےاموال سےمزید محاصل وصول کیےجا سکتےہیں۔
امام جوینی کےشاگرد امام غزالی (م ۵۰۵ھ/ ۱۱۱۱ء) نےمصالح اور مقاصد دونوںتصورات کو یکجا کرتےہوئےمقاصدِ شریعت کی باضابطہ فہرست مرتب کر دی۔ اُن کےنزدیک خلقِ خدا سےمتعلق شریعت کا مقصد پانچ چیزوں،یعنی افراد کےدین،جان،عقل،نسل اور مال کی حفاظت ہے۔ ان پانچ کی حفاظت کرنےوالی چیز مصلحت اور انہیں نقصان پہنچانےوالی چیز مفسدہ ہےجسےدور کرنا مصلحت ہے۔ وقت کےساتھ مقاصد ِشریعت کی بحث نکھرتی چلی گئی،اور آٹھویں صدی ہجری میں امام ابواسحق شاطبی (م۷۹۰ھ/ ۱۳۸۸ء) کےہاں پوری جامعیت کےساتھ سامنےآئی، تاہم اس کےبعد بھی بدلتےہوئےحالات میں مقاصدِ شریعت کی تعیین و تفہیم کا عمل جاری رہا۔ برصغیر پاکستان وہند کی حد تک شاہ ولی اللہ کی معرکہ آرا کتاب ’’حجۃاللہ البالغہ‘‘ اسی سلسلےکی ایک کڑی ہے۔
دوسری عالمی جنگ کےخاتمےپر انڈونیشیا سےمراکش تک مسلم آبادی کےخطےیکےبعد دیگرےاستعماری طاقتوں کی غلامی سےآزا د ہوئے،ان خطوں میں ابھرنےوالی تحریکات ِ آزادی کا ایک قوی عنصر مسلمانوں کا دینی تشخص تھا، چنانچہ آزادی کےبعد ان میں سےکئی ریاستوں میں اسلامی قانون کےنفاذ کا مطالبہ ہوا۔ فاضل مصنف نےاس حقیقت کی نشان دہی کی ہےکہ نفاذِ شریعت کی ان کاوشوںمیںمقاصدِشریعت کو موضوع بحث بننا تھا،اور بجاطورپر اس پر غور وفکر کیا گیا۔
آج کےدور میںذرائع اطلاعات اور رسل و رسائل کےترقی یافتہ وسائل کو دیکھتےہوئےوسیع و عریض دنیا کو ایک ’’عالمی گاؤں‘‘ کہا جا رہا ہے،مگر اس عالمگیریت (گلوبلائزیشن) کا ڈیزائن مغرب کی سیاسی واقتصادی غلبہ رکھنےوالی اقوام کا تیار کردہ ہے۔ ڈاکٹر محمد نجات اللہ صدیقی نےعالمگیریت کے چیلنجوں سےعہدہ برآ ہونےکےلیےاسلاف کےبیان کردہ پانچ مقاصدِ شریعت (دین، جان، مال، عقل اور نسل کےتحفظ) کےساتھ ان چھ مقاصد کےحصول کا اضافہ کیا ہے:

انسانی عزوشرف
بنیادی آزادیاں
عدل وانصاف،ازالۂ غربت اور کفالتِ عامہ
سماجی مساوات اور دولت وآمدنی کی تقسیم میںپائی جانےوالی ناہمواری کو بڑھنےسےروکنا
امن وامان اورنظم ونسق
بین الاقوامی سطح پر باہم تعامل او ر تعاون۔
ڈاکٹر صاحب نےمذکورہ مقاصدِ شریعت کےمعتبر اور مستند ہونےپر اختصار اور جامعیت کےسا تھ نقلی و عقلی دلائل دیےہیں۔ (دیکھیے: صفحات ۲۲۔۴۴)
گزشتہ نصف صدی میںعالم اسلام کو جن نئےمسائل کا سامنا کرنا پڑا،اور غور وفکر کےبعد مسلم اہلِ دانش نےان میںسےبعض کےجو شرعی حل تجویز کیے،یا ان پر عمل کیا،فاضل مصنف نےان کا جائزہ لیتےہوئےواضح کیا ہےکہ جہاںمقاصدِ شریعت کو کماحقہٗ سامنےنہیںرکھا گیا،وہاںاہلِ دانش کی اختیار کردہ آراء کےنتائج اچھےمرتب نہیںہوئے۔ جدید مسائل کےسلسلےمیںفاضل مصنف نےکرنسی نوٹ کی شرعی حیثیت،عورت کا بغیر محرم کےسفرکرنے،صدقۂ فطر کی نقدی کی شکل میںادائیگی،قطبین کےعلاقوںمیںنماز اور روزےکےاوقات،طویل المیعاد ٹھیکوںمیںادائیگیوں،اشیاء کی قیمتوںکےتعین،اسلا م قبول کرنےوالی خاتون کےکتابی شوہر کےنکاح میںرہنے،غیرمسلم اکثریتی ممالک میںمسلمانوںکےحقوقِ شہریت یا اس کےبرعکس مسلم اکثریتی ممالک میںغیرمسلموںکی شہریت،غیرمسلم ملک کےشہری ہوتےہوئےوہاںکی فوج میںمسلمان کی ملازمت،عورت کی سربراہی اور اسلامی مالیات اور بینکاری کےمعاملات پر اظہارخیال کیا ہے۔
فاضل مصنف نےنفاذِ شریعت کی راہ میںاہلِ دانش کےہاںمقاصدِ شریعت کےفہم اور تطبیق میںاختلاف کو ایک حقیقت کےطورپر تسلیم کیا ہے،اختلاف کےاسباب پر روشنی ڈالی ہے،اور بجاطورپر لکھا ہےکہ یہ ایک معمول کی بات ہے،اس پر تشویش کی کوئی ضرورت نہیں،ایسا ماضی میںہوتا رہا ہے،اورمستقبل میںبھی یہ ہوتا رہےگا،تاہم اختلاف سےعہدہ برآ ہونےکےلیےوہ ’’شورائی طریقِ فیصلہ‘‘ تجویز کرتےہیں(صفحات ۱۳۰۔ ۱۴۴)۔انہوںنےموجودہ صورت ِ حال کےضمن میںلکھا ہے:
صدیوںکی بگڑی عادت کےسبب عالم اسلامی میں،خصوصاً ان ممالک میںجو شورائی طریقِ فیصلہ، عوام کی شرکت سےانتظام وانصرامِ مملکت اور اظہار رائےاور آزادی اجتماع وغیرہ سےمحروم ہیں،زندگی کےہر دائرہ میںضابطہ بندی کا زور ہے،چنانچہ نئےاجتہاد اور پیش آمدہ مسائل پر غور وفکر اور تبادلۂ آراء کےذریعہ فیصلوںتک پہنچنےکےعمل کو بھی وہ آزادی میسر نہیںہےجو دوسری تاچوتھی صدی ہجری میںمیسر تھی۔ ہمیںیہ سمجھنا ہو گا کہ ضابطہ بندیوںمیںہمیشہ پھیلاؤ کا رجحان پایا جاتا ہےاور یہ کہ نئی فکر،نئےحل اور نئی راہیںنکالنےکےعمل کو قید وبند راس نہیںآتی۔ ہمیںاس ماڈل پر بھروسا کرنا ہو گا جو اسلام کی ابتدائی صدیوںمیںپایا گیا ۔ اس میںکوئی شبہ نہیںکہ افراد کو آزادانہ سوچنےاور تبادلۂ خیالات کی دعوت دینےمیںکچھ خطرہ (risk) مضمر ہے۔ اس کےنتیجہ میںطرح طرح کےخیالات سامنےآئیںگے،ان پر بحث و مباحثہ میںبڑا وقت لگےگا،اہلِ علم کا بڑا وقت ضائع ہو گا،کیوںکہ گمانِ غالب یہی ہےکہ ان نئےافکار میںسےاکثر غلط اور لاحاصل ثابت ہوںگے،کچھ لوگ سوچ سکتےہیںکہ وہ صورتِ حال اس سےبہتر ہےجو صدیوںسےقائم چلی آ رہی ہے،یعنی نئےپیش آمدہ مسائل میںاجتہاد کی کوشش کو امت کےعلماء اور فقہاء کا کام قرار دیا جائے،اور باقی لوگوںکو اس بات پر قانع رکھا جائےکہ ان کا کام سمع و طاعت ہے۔ (ص ۱۴۶)
فاضل مصنف کےنزدیک ضابطہ بند معاشروںکی یہ سوچ درست نہیں(ص۱۴۷)۔ انہوںنےاس سوچ کی غلطیوںکو ایک ایک کر کےواضح کیا ہے۔ مزیدبرآںاُن کےنزدیک کھلےآزادانہ تبادلۂ خیالات اور فیصلوںمیںجمہور کےحصہ لینےسےملتیںطاقت ور ہوتی ہیںنہ کہ کمزور۔ اہم تر بات یہ ہےکہ مسلمان اس عمل کےمن جانب اللہ مکلف ہیں۔
فاضل مصنف نےمقاصدِ شریعت کےایک اور اہم پہلو کی جانب توجہ دلائی ہے۔ اُن کےنزدیک یہ مقاصد اپنےاندر اثر ونفوذ کےحوالےسےعالمگیریت کا وصف رکھتےہیں۔ مقاصدِ شریعت کا دائرہ اس قدر وسیع ہےکہ یہ انسانیتِ عامہ کو محیط ہے۔ غیرمسلموںکےساتھ مسلمانوںکےتعلقات کی نوعیت،اس پس منظر میںمرتب ہونا چاہیے۔ انہوںنےعصرِحاضر کےمشترک انسانی مسائل کےبعض حل تجویز کیےہیں،اور ان کی اساس مقاصدِ شریعت کو ٹھہرایا ہے۔ انہوںنےان امور کی جانب توجہ دینےاور ان میںغورو غوض کرنےکی دعوت دی ہے۔

کتاب کا مطالعہ کرتےہوئےقاری یہ محسوس کرتا ہےکہ فاضل مصنف مسلمانوںکی زبوںحالی اور عالمی تناظر میںان کی شناخت کےگم ہو جانےپر دل گرفتہ ہیں۔ وہ مسلمانوںکی ایک نئی شناخت کےخواہش مند ہیںجو توحید،مکارمِ اخلاق ،سماجی مساوات،معاشی عدل اور سچی جمہوریت کی آئینہ دار ہو۔ اُنہیںافسوس اس بات پر ہےکہ آج مسلمان نہ صرف اس شناخت سےمحروم ہیں،بلکہ عام انسانوںکو ان میںکوئی ایسی بات نظر نہیںآتی جس سےیہ معلوم ہوکہ مسلمانوںکو ان (عام انسانوں) کی بھلائی مقصود ہے۔
فاضل مصنف کا اسلوب ِ تحریر مثبت اور امید افزا ہے۔ وہ مسلمانوںکی فکری،سیاسی،ثقافتی اور اقتصادی پس ماندگی کا ذکرکرتےہیں،مگر اپنےقاری کو مایوسی اور نا امیدی کی دلدل میںنہیںدھکیلتے،بلکہ اُسےاقوامِ عالم کےا سٹیج پر دوبارہ باوقار مقام حاصل کرنےکےلیےمفید راہ دکھاتےہیں۔
اپنےموضوع کےاعتبار سےیہ ایک اہم کتاب ہےجو مسلم امت کا درد رکھنےوالےتمام اہلِ فکر ونظر کو دعوتِ مطالعہ دیتی ہے۔ادارہ تحقیقاتِ اسلامی کےکارپرداز بھی حسبِ سابق ایک اور اچھی کتاب کی اشاعت پر مبارک باد کےمستحق ہیں۔ کتاب کی معنوی خوبیوںکو ترتیب وتدوین اور طباعت کےاعلیٰ معیار نےمزید بڑھا دیا ہے۔

کتاب میں درج قرآنی آیات پر اعراب لگانےکا اہتمام نہیں کیا جا سکا۔ تلاوتِ قرآن میں کسی غلطی سےبچنےکےلیےعام قارئین کےلیےاعرا ب بہت حد تک ضروری ہیں، بعض دوسرےادارےاپنی مطبوعات میں اب تو احادیث پر بھی اعراب لگانےکا اہتمام کرتےہیں۔ پوری کتاب میں’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘کو  ﷺ لکھا گیا ہے، مگر طغرےکا ابتدائی حصہ، پچھلےحروف کےساتھ اس طرح جڑگیا ہےکہ کمپوزنگ کی خوبصورتی متاثر ہوئی ہے۔ طغرےاور اس سےمعاً پہلےلفظ کےدرمیان مناسب فاصلہ ہونا چاہیےتھا، یا ’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ پر مشتمل اس سےکوئی بہتر طغریٰ استعما ل کر لیا جاتا تو مناسب ہوتا۔
ادارےسےیہ توقع بےجا نہ ہو گی کہ کتاب کا ایک سستا ایڈیشن بھی چھاپا جائےاور اسےہرایک کتب خانےاور زیادہ سےزیادہ ہاتھوں تک پہنچایا جائے۔

شریعت اسلامیہ میں جرم وسزا اور نفاذ حدود

0 تبصرہ جات

شریعت اسلامیہ میں جرم وسزا اور نفاذ حدود


پروفيسرڈاکٹر فريدالدين  سابق استاذ الحديث
تلخیص :حافظ امداداللہ محمود بن فريدالدين

جرم وسزا کے باہمی تعلق پر آج کل دنیا میں بڑا زور وشور برپا ہے،ہر آئے دن اپنی اسلام دشمنی کا ثبوت اورمغربی آقاﺅں کی خوشنودی کی خاطرکوئی نہ کوئی اسلامی سزا اور شعار کو طعن وتشنيع کا نشانہ بنا يا جاتا ہے،جرم وسزا کے حقیقی تعين کو اپنی خواہش کے اسلام کے تابع کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،ہر آئے دن کسی خود ساختہ مسئلہ کوبہانہ بناکر اپنے ذہن کی پراگندگی کو اسلام اور اسلام پسند قوتوں کے سر تھوپنے کی بھونڈی بھانڈی سازش کی جاتی ہے ، اس سازش میں عوام تو عوام بلکہ خواص بھی ان کے جراثيم کا شکار ہو کر ان کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ حالانکہ قرآن مجيد فرقان ِ حمید نے سنی سنائی خبروں کی خوب جانچ پڑتال کرلینے کا حکم ديا ہے تاکہ بعد میں حقیقت کے کھلنے پر ندامت نہ اٹھانی پڑے ۔ ليکن اسلام کی حقانيت سے خائف لوگ اپنے دل میںچھپے کفر کی آڑ میں اسلامی سزاﺅں کو بے رحمانہ اور ظالمانہ کہہ کر اسلام دشمنی کاواضح ثبوت فراہم کررہے ہیں۔
اسلام نے جرم وسزا کا جو تصور پیش کیا ہے ،اس سے بہتر تصور آج تک کسی نظام نے پیش نہیں کیا۔ ظاہر ہے کہ خالق نے جو سزا تجویز فرمائی اسکے مقابلہ میں مخلوق کی تجویز کی ہوئی سزا کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے۔ یہ انسان کی حد درجہ نادانی ہو گی کہ وہ اپنی تجویز کی ہوئی سزاﺅں کو اپنے پیدا کرنے والے معبود ِبرحق کی تجویز کردہ سزاﺅں سے بہتر سمجھے۔
اسلامی سزاو ں کی حکمتیں
(1)اسلام نے لت پڑ جانے والی برائيوں پرسزائیں مقرر کی ہیں جس میں معاشرہ کی خير رکھی ہے:
حضرت شاہ ولی اللہ  لکھتے ہیں” بعض معاصی کے ارتکاب پر شریعت نے حد مقرر کی ہیں۔ یہ وہی معاصی ہیں جن کے ارتکاب سے زمین پر فساد پھیلتاہے۔ نظامِ  تمدن میں خلل پیدا ہوتا ہے اور مسلم معاشرے کی طمانیت اور سکون ِقلب رخصت ہو جاتاہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ معاصی کچھ اس قسم کی ہوتی ہیں کہ دو چار بار ان کا ارتکاب کرنے سے ان کی لت پڑ جاتی ہے۔ ا ور پھر ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی معاصی میں محض آخرت کے عذاب کا خوف دلانا اور نصیحت کرنا کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ ضروری ہے کہ ایسی عبرتناک سزامقر ر کی جائے کہ اس کا مرتکب ساری زندگی کے ليے معاشرے میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور سوسائٹی کے دیگر افراد کے لیے سامانِ عبرت بنا رہے۔ اور اسکے انجام کو دیکھ کر بہت کم لوگ اس قسم کے جرم کی جرا ت کریں“ ۔
    (حجة اللہ البالغہ ، شاہ ولی اللہ دہلوی۔ ج 2 ص 158 )
(2) اسلامی سزا ﺅں کا نفاذ عین فطرت کے مطابق ہے اور انہیں ظالمانہ کہنے والے انسانی عفت وعصمت کے دشمن ہیں:
ہمیں اعتراف ہے کہ قرآن کریم اور سنت نبوی  میں سخت سزائیںتجویز کی گئی ہیں لیکن جن لوگوں کی نظر ان سزاﺅں کی سنگینی پر جاتی ہے انہیں اس پر بھی نظر کرنی چاہیے کہ جس فعل پر یہ سزائیں مقرر کی گئیں ہیں وہ فعل کس قدر گھناﺅنا اور کس قدر انسانیت سوز ہے۔ آج وہ لوگ جو اسلامی سزاﺅں کو غیرمہذب، وحشیانہ اور ظالمانہ بتلا رہے ہیں اپنی بیوی کو مشتبہ حالت میں غیر مرد کے پاس دیکھ لیں تو یقیناً غیرت سے دونوں کو موت کے گھاٹ اتار دینے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہ کر یں (اگر چہ اس حالت میںديکھنے کے باوجود شرعاً ازخود سزا دينے ياقتل کرنے کی ممانعت ہے)ا س لیے کہ یہ انسانی فطرت ہے، تعجب ہے جب شریعت زانی مرد اور زانی عورت کی وہی سزا تجویز کر تی ہے تو نافہم لوگ ناک بھوں چڑھاتے ہیں اور اس سزا کو غیر مہذب اور وحشیانہ کہنے لگتے ہیں۔ جبکہ اسلام نے سزا کے جاری کرنے میں انتہائی احتیاط برتنے کا حکم دیاہے اور جرم کے ثابت ہونے پرسخت سے سخت شرائط مقرر کی ہے اورپھر اس جرم کے ارتکاب کے بعد شبہ کی بنیادپرحد کو ساقط کرنے کا حکم بھی صادر فرمایاہے ۔
تعجب ہے کہ خود تواپنی بیوی کو مشتبہ حالت میں دیکھ کر قتل کرنے پر تل جائیں اور جب شریعت انتہائی واضح شہادتوں کے بعد وہی فیصلہ کرے تو وہ سزا انہیں وحشیانہ نظر آنے لگے۔
٭ زنا ایک خبيث ترين فعل ہونے کے ساتھ ايک بڑا گھناﺅنا جرم ہے جو پوری انسانیت کے لیے تباہی کا باعث ہے۔ خاندانی شرافت اور نسب کے لیے باعث ذلت ہے، لہذااگر اسلام غیرشادی شدہ زانی مرد اور غیرشادی شدہ زانی عورت کو 100 کوڑے مارنے اور شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت کوسنگسار کرنے کی سزا صادر کرے تو کیا یہ عین فطرت نہیں تاکہ معاشرہ اور پوری انسانیت فساد سے بچ جائے۔
٭یہی حال چوری کاہے، فرض کیجئے کہ ایک چور سارے گھر کو لوٹ لیتاہے، اگراسی اثناءمالک مکان اسے دیکھ لے اور اسکے ہاتھ میں اسلحہ بھی ہو توکیا وہ اسے چھوڑ دے گا؟ ظاہرہے نہیں بلکہ فوراًاس پرگولی چلادے گاورنہ کم از کم اسکے پاﺅں میں گولی مار کر اسے بیکار کر دے گا۔ یہی جرم ثابت ہونے کے بعد شریعت صرف ہاتھ کاٹنے کی سزا دے تو اسے وحشیانہ سزا قرار دینا کہاں کا انصاف ہے ۔
 ٭یہی حال حد قذف کاہے اگر کوئی شخص کسی کی پاکدامن بیٹی پر زنا کی تہمت لگا دے تو ایک غیرت مند آدمی اپنی بیٹی کی عصمت و عفت پرداغ کوقطعاً برداشت نہیں کرسکتا بلکہ ممکن ہے پاک دامن بیٹی کا بدلہ چکانے کے لیے تہمت لگانے والے کاکام تمام کر دے۔ اگر یہی جرم ثابت ہونے کے بعد اسلام تہمت لگانے والے پر80 دُرے لگانے کا حکم صادر کرتا ہے تو یہ وحشیانہ سزا کیسے ہوئی ۔
٭یہی صورت حال شُرب ِخمر کی حد میں ہے جس سے پورے معاشرے میں بگاڑ پیداہوتا ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں انسان جب نشے میں ہوتا ہے تو اول فول بکنے لگتا ہے۔ اول فول بکتے وقت عموماً وہ تہمتیں لگاتا ہے لہٰذا شراب نوشی کی حد بھی وہی ہونی چاہیے جو حد قذف کی ہے ،جب صحابہ کرام اس بات پر متفق ہو گئے تو حضرت عمر نے تمام ممالک محروسہ میں یہ حکم نامہ لکھ کر بھیج دیا کہ شراب نوشی کی حد 80کوڑے ہیں ،اسی روایت کی بنیاد پر امام ابو حنیفہ  ، امام مالک  ، امام احمد   فرماتے ہیں کہ شراب نوشی کی حد80 کوڑے ہیں اور اسی پر پوری امت کا اجماع ہے۔     ( المغنی لابن قدامہ ج 10 ص326 )
 اسلامی سزائیں عین فطرت کے مطابق ہیں ، جرم کی سختی اور اسکے ضررکے مقابلہ میں وہ قطعاًسخت نہیں ہیں۔ جو لوگ انسانی حقوق کے نام پر اس فطرت کو بدلنا چاہتے ہیں وہ انسانی فطرت کے خلاف آمادہ جنگ ہیں۔
حد کی تعريف
حد کی جمع حدود ہے۔ لغت میں حد دو چیزوں کے درمیان فصل کرنیوالی چیز کو کہتے ہیں (محیط المحیط ج 1 ص 358) یا کسی چیز کے منتہی کو بھی حد کہتے ہیں (تاج العروس ج 2 ص 231 )
درالمختار میں حد کی تعریف یوں کی گئی ہے:”’لغت میں حد منع کرنے کو کہتے ہیں اور شریعت میں حد وہ سزا ہے جس کی مقدار معين ہے اور جو اللہ تعالیٰ کے حق کے طور پر واجب کی گئی ہے تاکہ لوگوں کو ان جرائم سے باز رکھے۔ تعزيربھی حد نہیں کیونکہ اسکی مقدارمتعین نہیں اور قصاص بھی حد نہیں کیونکہ وہ مقتول کے وارث کا حق ہے“۔(درالمختار،کتاب الحدود،ص4 ج166)
چنانچہ حد شرعاً اس سزا کو کہتے ہیں جو اللہ یا اسکے رسول کی جانب سے مقرر ہو۔
 اسلامی حدود آیات قرآنی سے بھی ثابت ہیں جیسے زنا ،چوری ، لڑائی فساد کرنے والے اور شراب کی حد ۔ نیز حد کا ثبوت احادیث نبوی سے بھی ثابت ہے جیسے حد رجم ۔
اقسامِ حدود
فقہائے اسلام نے بالعموم جرائم حدود کی پانچ اقسام بیان کی ہیں (1)حدِزنا (2)حدِ قذف (3)حدِ سرقہ(4)حدِ قطع الطریق (ڈاکہ زنی کی حد)(5)حدِ شُرب ِخمر(شراب نوشی کی سزا)۔ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ جرائم حدود چھ ہیں۔ چنانچہ مذکورہ بالا جرائم کے علاوہ ارتداد بھی حدود میں شامل ہے۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ جرائم حدود سات ہیں۔ مذکورہ بالاچھ جرائم کے علاوہ بغاوت بھی اس میں شامل کی ہے ۔
 حافظ ابن حجر عسقلانی نے سترہ جرائم کو قابل حد شمار کیا ہے اور گیارہ جرائم کے متعلق اتفاق ظاہر کیاہے۔ مذکورہ بالاسات جرائم کے علاوہ ترک صلوٰة، ترک صوم ،جادو گری ، جانوروں سے لواطت کو بھی حدود میں شمار کیا ہے۔ (فتح الباری ج 15۔ ص 61)
ڈاکٹر عبدالعزیز عامر نے اپنی تالیف ”التعزیر فی الشریعة الاسلامیہ “میں صرف سات جرائم کو قابل حد قرار دیا ہے ۔ (التعزیرفی الشریعة الاسلامیة۔ ص 13)لیکن جن جرائم کے حدود ہونے پر جمہور فقہاء کا اتفاق ہے وہ سب قرآن پاک سے ثابت ہیں۔
.1زنا کی حد کا ثبوت سورة النور کی آيت نمبر2میں ہے۔
.2 تہمت کی حدکا ثبوت سورة النور کی آیت نمبر 4میں ہے۔
. 3 راہزنی کی حدسورة المائدة کی آیت نمبر 34-33 میں ہے۔
.4 چوری کی حدسورة المائدة کی آیت نمبر 38 میں ہے۔
.5 شراب نوشی کی حد سورة المائدة کی آیت نمبر 90 میں ہے۔
.6 باغی کی حد سورة الحجرات کی آیت نمبر 9 میں ہے۔
.7مرتد کی حد سورة البقرة کی آیت نمبر 217 میں ہے۔
لواطت کی سزا
لواطت کے اس قبيح اور خبيث فعل پر متعدد سخت تنبيہ آور احاديث آئی ہیں۔
 ٭ابن عباس   سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمايا : ”جس شخص کو قومِ لوط کا عمل کرتے پاﺅ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو“ ۔(ترمذی ،ابن ماجہ )
٭ جابر سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمايا:”اپنی امت پرمجھے سب سے زيادہ جس کا خوف ہے وہ عمل قومِ لوط ہے“۔(ترمذی ،ابن ماجہ ،حاکم)
 ٭ابن عباس   سے روايت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم  نے فرمايا : ”اللہ تعالیٰ اس مرد کی طرف نظر ِرحمت نہیں فرمائیں گے جو مرد کے ساتھ جماع کرے يا عورت کے پيچھے کے مقام میں جماع کرے “۔( ترمذی ،نسائی ،ابن حبان)
 لواطت کرنے والے کی حد کے متعلق اختلاف ہے۔
امام ابوحنیفہ کے نزدیک لواطت پر شرعاً کوئی حد مقررنہیں ہاں امام المسلمین جس قسم پراور جس قدر مصلحت سمجھے بطور تعزیرسزا جاری کر سکتا ہے۔ امام شافعی کا ظاہر قول ہے کہ فاعل پر حدزنا جاری ہوگی اور مفعول پر سوکوڑے ہیں۔ امام شافعی کا دوسرا قول یہ ہے کہ فاعل اور مفعول بہ دونوں کو قتل کیا جائے گا، جيسا کہ پیارے نبی صلى الله عليه وسلم کا فرمان ہے ”جس شخص کو قومِ لوط کا عمل کرتے پاﺅ تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر ڈالو“ ۔(ترمذی ،ابن ماجہ )
امام مالک اور امام احمد کے نزدیک لواطت کرنے والے کو سنگسارکیا جائے گا۔
 حد زنا میں سزا کا تعین
قرآن پاک میں جو سزائیں متعین کر دی گئیں ہیں۔ ان میںزنا کی سزا اُن تمام جرائم کی سزاﺅں سے سخت ہے۔ چونکہ زنا خود ایک بڑا جرم ہونے کے علاوہ پوری انسانیت کے لیے تباہی کا باعث ہے نیز بہت سے جرائم کا مجموعہ ہے جس سے نسب مجروح ہوتا ہے ۔ عورت اپنی عصمت اور عفت سے محروم ہو جاتی ہے ، قبیلہ اور خاندان کو ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے اسلام نے تمام جرائم میں فحش تر جرم زنا کو قرار دیا ہے اور اسکی سزا بھی انتہائی سخت مقرر فرمائی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
 اَلزَّانِیَةُ وَالزّاَنِی  فَاجلِدُواکُلَّ وَاحِدٍ مِّنھُمَا مِائةَ جَلدَةٍ وَّلَا تَا خُذ کُم  بِھِمَا رَا فَة  فِی  دِ ينِ اللّٰہِ اِن ِ کُنتُم  تُو مِنُو نَ بِاللّٰہِ وَاليَو مِ الآخِرِ وَليَشھَد عَذَابَھُمَا طَائِفَة  مِّنَ المُومِنِينَ ۔( سورة النور آیت نمبر 2)
ترجمہ:”بدکار عورت اور بدکار مرد (غير شادی شدہ)ہر ايک کو سو کوڑے مارو، اگر تم اللہ اور يومِ آخرت پر يقین رکھتے ہوتو اللہ کے دين کا يہ قانون لاگوکرنے میں تم کو کسی کا لحاظ کرنے اور ترس کھانے کی ضرورت نہیں اور ان دونوں کو سزا ديتے وقت ايمان والوں کی ايک جماعت کو حاضر رہنا چاہے“۔
 یہ سزا تو غیر شادی شدہ مرد اور عورت کے لیے مقرر ہے البتہ اگرشادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت زنا کے مرتکب ہوں تو اسلام نے رجم کی سزا مقر ر کی ہے۔اور یہ سزا حدیث،خلفائے راشدین کے تعامل اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت عمر  نے خطاب فرماتے ہوئے فرمایا: فَرَجَمَ رَسُو لُ اللّٰہِ ﷺ وَرَجَمنَا بَعدَہ  ( البخاری حدیث نمبر 1009 ج 2 )
”رسول اللہ صلى الله عليه سولم نے شادی شدہ زانیوں کو رجم فرمایا اور آپ کے بعد ہم نے رجم کیا“۔ چنانچہ حضرت ماعز اسلمی  اور غامدیہ  کو خود رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے حکم مبارک سے رجم کیا گیا۔    ( موطا امام مالک۔ کتاب الحدود حدیث نمبر4۔5 )
حد قذف (تہمت کی حد)
قذف سے مراد تہمت ہے يعنی بغیر شرعی ثبوت کے کسی مرد یا عورت پر زناکا الزام لگانا۔ اسلام میں اس تہمت لگانے کو شدید جرم قرار دیا گیا ہے۔ اور اس جرم پر حد شرعی  80کوڑے مقرر کی گئی ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ کوئی شخص صرف اس وقت کسی پر زنا کا الزام لگائے گا جب وہ اس فعل خبیث کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ صرف ایک آدمی سے شہادت پوری نہیں ہوگی بلکہ جب چار اشخاص اس قسم کی کامل گواہی دے دیں تب اس حد کو قاضی لاگو کرے ۔ نصاب ِشہادت کم ہونے کی صورت میں الزام لگانے والے حد قذف کے مستوجب قرار پائیں گے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴾ وَالَّذِینَ یَر مُو نَ المُحصَنَاتِ ثُمَّ لَم  یَاتُوا بِاَر بَعَةِ شُھَدَائَ فَاج لِدُو ھُم  ثَمَانِینَ جَلدَةً وَّلَا تَقبَلُو ا لَھُم  شَھَادَةً اَبَدَاً وَاُو لَائِکَ ھُمُ الفَاسِقُو ن ﴿ (سورة المائدة آیت نمبر 4 )
ترجمہ:”اور جو عيب لگاتے ہیں پاک دامن عورتوں پر اور پھر اس الزام پر چار گواہ نہ لاسکیںتو ايسوں کو اسی کوڑے مارو اور پھر انکی گواہی کبھی قبول نہ کرو کہ ايسے لوگ بدکردار ہیں“۔
حد سرقہ (چوری کی حد)    
 چور چونکہ معاشرہ کی فضا درہم برہم کرناچاہتا ہے، چوری کرنے کے لیے قتل کی واردات کا بھی مرتکب ہوتا ہے۔ جس سے پورے معاشرہ کا امن واطمینان جاتا رہتا ہے۔ ان خطرناک اثرات ونتائج کے پیش نظر اسلام نے سخت ترین سزا کا حکم نافذ فرمایا۔ چنانچہ ارشاد ربانی ہے۔﴾ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقطَعُوا اَیدِیَھُمَا جَزَائً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِنَ اللّٰہ وَاللّٰہُ عَزِیز حَکِیم﴿(سورة المائدة آیت نمبر 38 )
ترجمہ:”اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت اُن کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ اُن کے فعلوں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرت ہے اور اللہ زبردست حکمت والا ہے ۔

بدعات اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم

0 تبصرہ جات

بدعات اور شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم


بعض لوگ توحید، قیامت اور رسالت کے یکتا اصول کے تحت ارکان اسلام کو تاقیامت باقی اور جدید وقدیم کے تقاضوں سے ہم آہنگ قرار دیتے ہوئے اسلامی قانون کا مسلم اصول یہ بیان کرتے ہیں کہ جس کام سے شریعت میں منع نہیں کیا گیا تو اس کی اجازت ہے
۔
گویا انسان کے لیے کھلا میدان چھوڑ دیا گیا ہے کہ وہ فرائض وسنن اور مستحبات کی ادائیگی اور حرام ومکروہات سے اجتناب کرتے ہوئے وہ امور جن کی حلت وحرمت کے بیان سے شریعت خاموش ہے انہیں مباح اور جائز سمجھتے ہوئے ان میں جب چاہے جتنا
چاہے اضافہ کرے اور قولی، فعلی اور مالی عبادت میں آزاد ہے ۔
اگر کوئی شخص اس بات کو غلط کہے کہ جو عبادت سنت میں نہیں ہے تو اس کو جواب دیا جائے کہ اس کی ممانعت ثابت کرو حالانکہ جس عمل کی ممانعت بالصراحت نہیں وہ مباح کی ذیل میں آتا ہے اور فقہ اسلامی میں اس کا حکم کیا ہے ؟ ملاحظہ فرمائیں ۔
تمام اہل اسلام سے یہ بات مخفی نہیں کہ دین اسلام کامل ہے اور اس میں قیامت تک کے پیش آمدہ مسائل کا حل اور رہنمائی موجود ہے جو سعادت دارین کی کامیابی کی ضامن ہے ۔اور یہ دین وحی الہی سے ظہور پذیر ہوا اور یہ بنی نوع انسان کی زندگی کے ہر شعبے کو
محیط ہے ، تخلیق انسان کا مقصد وحید اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور عبادت کی حقیقت وتفصیل ازخود معلوم کرنا انسان کے بس میں ہر گز نہیں ہے ورنہ تو وحی کا انتظام ہی نہ ہوتا ، اسلام کے سارے نصاب کو شریعت سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کے دو پہلو ہیں ایک
عبادات کا اور دوسرا معاملات باہمی کا ۔ یا یوں کہا جائے کہ دین اسلام حقوق اللہ اورحقوق العباد پر مشتمل ہے ، اللہ تعالیٰ کا حق اس کی عبادت ہے ، جس کی قبولیت کی دو شرطیں ہیں ، خلوص اور سنت نبوی ﷺ کی موافقت ۔ ان میں کوئی ایک شرط بھی مفقود ہو
گی تو عبادت رائیگاں ہو گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان حدیث قدسی میں ہے :
أنا أغنی الشرکاء عن الشرک۔ میں تمام شریکوں کے شرک سے بے نیاز ہوں اور جس کام میں شرک شامل ہو میں مشرک او ر اس کے شرک سے دستبردار ہو جاتا ہوں اور اسے چھوڑ دیتا ہوں اور سنت کی موافقت نہ ہونے کی صورت میں آپ ﷺ نے فرمایا:
’’ جو میری سنت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں ۔‘‘
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان دونوں شقوں کو ملحوظ رکھا اور ان میں کوتاہی کو عبادت میں کوتاہی سے تعبیر کیا ، مثلا: عبادت خواہ قولی ہے تو اس میں وصف کی تبدیلی کو بدعت، ضلالت اور گمراہی سے تعبیر کیا ۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود اور ابو موسیٰ اشعری
رضی اللہ عنہما اجلّہ صحابہ مسجد میں اسوہ نبی سے ہٹ کر ذکر الہی کرنے والوں کی سرزنش فرماتے ہیں اور اسے بدعت اور گمراہی سے تعبیر کرتے ہیں بلکہ ذا کرین کو فرماتے ہیں کہ اپنی خطائیں شمار کرو نیکیوں کے ہم ضامن ہیں ، اور کیا تمہار ا طریقہ رسول اللہ کے
طریقہ سے اچھا ہے ؟اوریہ حدیث صحیح ہے جس کی تفصیل کتب سنن میں دیکھی جا سکتی ہے ، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عید گاہ میں نمازعید سے پہلے ایک شخص کو نما ز پڑ ھتے ہوئے دیکھا توا سے منع فرمایا اس نے کہا :میں نماز ہی تو پڑ ھ رہا ہوں تو فرمایا: جو
عبادت رسول اللہ ﷺ نے نہیں کی اس میں تم آپ ﷺ کی مخالفت کر رہے ہو بجائے ثواب عذاب پاؤ گے اور تیرا یہ نماز پڑ ھنا بھی عبث ہے اور عبث حرام ہے یہاں اس شخص نے یہ نہیں کہا کہ آپ ﷺ نے منع تو نہیں فرمایا یا کثرت عبادت عبث اور
حرام کیسے ہو گی ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تیرا یہ نماز پڑ ھنا شاید رسول اللہ ﷺ کی مخالفت کی وجہ سے عذاب الہٰی کا سبب بنے ۔
معلوم ہوا کہ عبادت کے کاموں میں اگر کوئی عمل بدون اذن شرع اور شارع علیہ الصلاۃ والسلام کے کیا جائے تو وہ مردودہو گا ۔ بعض لوگوں نے اہل اسلام کا مسلم اصول یہ پیش کیا ہے کہ اصل اشیاء میں اباحت اور مباح کو یہ مقام حاصل ہے کہ جتنا چاہیں کریں
خواہ عبادت قولی ، فعلی یا مالی ہو اور جس وقت چاہیں کریں اگر سنت ہونے کا استفسار کرے تو بڑ ی ڈھٹائی سے کہو کہ تم منع دکھاؤ ۔ اس جوابی نکتے کی تکرار کی تلقین کی جاتی ہے ۔
کتاب وسنت تو یہ تقاضا کرتی ہے کہ شریعت کی اتباع کی تلقین کریں اور من مرضی کے اضافوں کو بدعت سے تعبیر کریں لیکن یہاں اسلام کی ہمہ گیری اور وسعت کے تقاضے ہیں کہ ہر شخص مباح میں آزاد ہے اور امت مسلمہ کو مباح کی ڈھیل میں بدعت کی
دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے ۔
مباح کی کیا حیثیت ہے ، اصول فقہ میں تواس کا فعل وترک برابر لکھا گیا ہے یعنی کرے تو ثواب ، نہ کرے تو گناہ نہیں ۔ (اصول فقہ کی کتابوں کا حوالہ )
یہ اس کی قانونی حیثیت ہے لیکن لوگ اسے تشریعی حکم کا درجہ دے رہے ہیں حالانکہ شارع علیہ السلام نے اسے نظرا نداز کر دیا ہے لہذا سنت کا مطالبہ کرنے والوں کے مقابلہ میں اس موقف سے مذکور عمل کی تشریع کا وہم پڑ تا ہے چنانچہ یہ عدم ثبوت اس کی
ممانعت کی دلیل ہو گا پھر یہ اصول متفقہ نہیں ہے امام جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک اصل تحریم ہے ، یہ ملحوظ رہے کہ اہل سنت کے ائمہ اس با ت پر متفق ہیں کہ عبادت میں اصل یہ ہے کہ کوئی عبادت تب تک
مشروع نہ کہلائے گی جب تک شرع شریف سے اس کا اذن واجازت نہ ہو یعنی عبادات میں اصل تحریم ہے جیسا کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’فروع فقہ شافعیہ ‘‘ میں جو کہ ’’الاشباہ والنظائر‘‘ کے نام سے مشہورہے میں
ص:۶۰ پر ذکر کیا ہے ۔ جب عبادات میں بدون اذن شرع اضافہ خواہ اصلی شکل میں یعنی مشروع عبادت کی شکل میں تبدیل حرام ہے اور آپ کے مباح پر جو فعلاً وترکاً برابر ہے ۔ حرام کا فتویٰ علی رضی اللہ عنہ نے لگایا ہے ، امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی اصل تحریم کا
مورد بھی ہے اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی اس پر بدعت کا حکم لگایا ہے ۔
ہمارے لیے قرآن مجید اور احادیث مبارکہ آئینہ ہیں اگر کوئی ہمیں دکھائے تو سعادت مندی ہے ان سے ہماری غلطیوں کی اصلاح ہو سکتی ہے ۔
جملہ عبادات میں اصل ممانعت ہے الّا یہ کہ شرع اجازت دے ہم اپنی طرف سے اختراع نہیں کرسکتے اس لیے ائمہ محدثین نے رسول اللہ ﷺ کی اتباع کو جہاں فرض قرار دیا ہے وہاں کسی کام کے آپ سے عدم ثبوت کی بناپر ترک کرنے کو بھی ضروری قرار
دیا ہے ۔ چنانچہ اس کی تفصیل علامہ ملّا علی القاری اور الشیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے بیان کی ہے اور بالصراحت یہ لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے افعال مبارکہ کی فعلا وترکا اتباع ضروری ہے ، چنانچہ آپ ﷺ سے کسی عمل کے منقول نہ ہونے یعنی
عدم ثبوت اور عدم نقل پر اس کے مکروہ اوربدعت ہونے کا حکم لگایا گیا ہے جیسا کہ فجر کی سنتوں کے بعد مزید نوافل ادا کرنے کے بارے میں مذکور ہے ۔
قاضی ابراہیم حنفی فرماتے ہیں کہ جس فعل کا سبب رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود ہو اور کوئی رکاوٹ بھی نہ ہو اور باوجود اس کی اقتضیٰ کے رسول اللہ ﷺ نے اسے نہ کیا ہو تو ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے دین کو بدلنا ہے کیونکہ اس کام میں کوئی مصلحت ہوتی
تو رسول اللہ ﷺ اس کام کو ضرور کرتے یا ترغیب فرماتے اور جب آپ ﷺ نے نہ خود کیا اور نہ کسی کو ترغیب دی تو معلوم ہوا کہ اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے بلکہ وہ بدعت قبیحہ سیئہ ہے ۔
(نقائص الاظہار ، ترجمہ مجالس الابرار ص:۱۲۷)
مسکوت عنہ کے ترک پر صاحب ھدایہ کی رائے ملاحظہ کریں فرماتے ہیں ’’ لا یتنفل فی المصلی قبل صلوۃ العید لان النبی ﷺ لم یفعل ذالک مع حرصہ علی الصلوۃ‘‘
(ھدایۃ ۔ج:۱، ص:۱۵۳)
ترجمہ:’’ اور عید گاہ میں نماز سے پہلے نوافل نہ پڑ ھے کیونکہ نبی ﷺ نے باوجود نمازکی حرص کے ایسا نہیں کیا ‘‘
’’لایتنفّل‘‘ نہی اور ممانعت کا صیغہ ہے یہ کونسی نہی ہے آپ فیصلہ کریں تحریمی ہے ، تنزیہی ہے یا ارشادی کہ جس میں ترک ہر صور ت ہے اگر نفی کا صیغہ ہو تو یہ اس سے بھی ابلغ ہے اور عید گاہ میں نماز عید سے پہلے نفل نماز پڑ ھنے والے کو سیدنا علی رضی اللہ
عنہ نے نہ صرف روکا بلکہ اس فعل کو جو بظاہر نیکی ہے اور رسول اللہ ﷺ سے اس کی ممانعت کا ذکر بھی نہیں آیا، اسے عبث اور حرام ٹھہرایا اور اس کو رسول اللہ ﷺ کے عدم فعل اور عدم ثبوت کی وجہ سے اسے آپ ﷺ کی مخالفت تعبیر فرما کر اس کو
عذاب کا مستحق ٹھہرایا ہے ۔
مگر بعض لوگ مسکوت عنہ یعنی وہ مسائل جن میں خاموشی اختیار کی گئی ہے اس پر خاموش رہنے کی تلقین کے باوجود خود اس پر کاربند ہونے کا اظہار واعلان ہی نہیں بلکہ اس پر سنت کے حوالہ کے طلبگاروں کو فروعی مسائل میں الجھانے کا الزام بھی دیتے ہیں ۔
مذکورہ حوالہ جات سے یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ سنت کی موافقت کے مطالبہ کی سوچ درست بھی ہے اور مفید بھی ، اور اس سے بڑ ھ کر پیارے پیغمبر ﷺ کی نافرمانی اور مخالفت سے بچنے کا ذریعہ بھی۔ اس لیے اگر آپ ﷺ کی اتباع میں ساری دنیا
سے اختلافات ہو جائیں تو کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہیے ۔
انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عبادت ہے اور اس کے باہمی معاملات کے درجہ سے رب تعالیٰ کا حق مقدم ہے اس کی ادائیگی میں اصل اور وصف کے لحاظ سے بدون اذن شرع کے ہم عبادت کا ایجاد واختراع نہیں کر سکتے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو
روایت حدیث ، درایت اور ہدایت میں کامل تھے انہوں نے تو عبادات میں رسول اللہ ﷺ کی ایک ایک ادا اور نوا اپنائی اور اس کی مخالفت تو کُجا اس سے سرِمُو انحراف بھی برداشت نہیں کیا جیسے کہ آدابِ دعا میں بعض صحابہ نے آپ ﷺ کے لیے ہاتھ اٹھانے
کی بلندی کے موافق ہاتھ نہ اٹھانے کو بدعت قرار دیا ہے ۔
بقول سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ :’’تمہارا دعا کے لیے اوپر ہاتھ اٹھانا بدعت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے سینے سے اوپر ہاتھ نہیں اٹھائے ‘‘ (مشکوٰۃ کتاب الدعوات)اب اس حدیث سے صحابہ کرام کی سوچ متعین ہوتی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی سنت
کی عدم موافقت کو بدعت شرعی سے تعبیر کرتے تھے ، حالانکہ بعض لوگوں کے خیال میں شریعت میں مباح کے ضمن میں کھلا میدان ہے او ر دعا کیلئے جتنے ہاتھ اٹھائیں بلکہ جب چاہیں اٹھائیں سنت کی موافقت ہو نہ ہو۔
لہذا مباح کی اسا س پر عبادات کی عمارت تعمیر کرنے کو گمراہی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے ، جب عبادات اصل مقصد زندگی ہیں تو ان کی اساس بھی کتاب وسنت ہے اور اختلافات کے وقت انہی دونوں سرچشموں سے ہی رفع اختلاف ہو سکتا ہے ۔ اس لئے
مسکوت عنہ مسائل جن کا تعلق عبادات سے ہے انہیں عبادا ت میں کھلی چھوٹ دینے کی بجائے اس پر کراہت ، حرام ہونے اور اس کے بدعت ہونے اور رسول اللہ ﷺ کی مخالفت ہونے کے سبب انہیں عذاب الہی کا مستوجب قرار دیا گیا ہے ۔ اس میں نہ شیخ
عبد القادر جیلانی رحمہ اللہ اس مباح کے ہم نوا ہیں نہ شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی ہم نوا ہیں بلکہ انہوں نے ہر طرح سے اپنی بے زاری کا اعلان فرمایا ہے اور ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ’’اطلبوا الاستقامۃ ولا تطلبوا الکرامۃ‘‘ کتاب وسنت پر استقامت مانگو اور کرامتوں کے
طلبگار نہ بنو ۔کیونکہ کرامت تو استقامت میں ہی ہے ۔ کتاب وسنت پر قناعت میں اختلاف ہو ہی نہیں سکتا البتہ خود ساختہ عبادات میں کوئی بضد واصرار کرے اور ان پر کتاب وسنت سے ثبوت مانگنے والے کو دین میں افتراق ڈالنے والے کہے تو یہ محل کو گرا جھونپڑ
ی میں ڈالنے والی بات ہے نبوت کا محل تو مکمل ہے مگر اس متعصب کے تقاضے پورے نہ ہوئے اور آپ ﷺ سے بڑ ھ کر متقی یا اللہ سے زیادہ ڈرنے کا اعتقاد لے کر عبادت میں مسابقہ درازی کرے تو اس کو قرآن وحدیث میں تکلف سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی
تصنع اور بناوٹ فرمایا گیا ہے ، آپ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ آپ فرمادیں (وما انا من المتکلفین ) ’’میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ‘‘
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جسے امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے جبن ، سمن اور فراء کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ حلال وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حلال فرما دیا
اور حرام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں حرام قرار دیا ہے اور جس سے اس نے خاموشی اختیار کی وہ اس کی طرف سے رحمت اور عفوہے ‘‘
اور حدیث کے اور بھی طُرق ہیں جن میں ہے کہ عفو سے خاموشی اختیار فرمائی ۔ حدیث پاک میں سوال کھانے پینے کی اشیاء سے ہے اور ’’فرا‘‘ حمار وحشی ہے ۔ نہ کہ عبادت سے اگر دونوں سے تعلق سمجھا جائے تو ہر ایک اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے گی یعنی
عبادات میں اصل تحریم وممانعت ہو گی جب تک شرع اجازت نامہ جاری نہ کرے اور عادات ومعاملات وماکولات میں اصل اباحت ہو گی جب تک شرع منع نہ کرے جنگلی گدھے کے شکار کا تعلق بھی عبادات سے نہیں ہے ، ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ سے روایت
ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرائض مقرر فرمائے انہیں ضائع نہ کرو اور بعض چیزوں سے نہی فرمائی ان کی حرمت کو پامال نہ کرو اور بعض چیزوں سے بھولے بغیر خاموشی اختیار کی ان سے بحث نہ کرو ‘‘
اور ایک روایت میں ہے کہ بہت سی باتوں سے بھولے بغیر خاموشی اختیار کی ان میں تکلف اختیا رنہ کرو جو تم پر رحمت فرمائی ہے اسے قبول کرو ۔
تکلف کے معنی میں امام راغب اصفہانی ’’مفردات القرآن ‘‘ میں رقم طراز ہیں ’’ کوئی کام کرتے وقت خوش دلی ظاہر کرنا باوجودیکہ اس کے کرنے میں مشقت پیش آ رہی ہو اس لیے عرف عام میں کلفت مشقت کو کہتے ہیں اور تکلف اس کام کے کرنے کو جو
مشقت بتصنّع یا اوپرے جی سے دکھاوے کے لیے کیا جائے اس لیے تکلیف دوقسم پر ہے ، محمود اور مذموم ، اگر کسی کام کو اس لیے محنت سے سرانجام دیا جائے کہ وہ کام اس پر سہل اور آسان ہو جائے اور اسے اس کام کے ساتھ خوش دلی اور محبت ہو جائے تو ایسا
تکلف محمود ہے چنانچہ اس معنی میں عبادات کا پابند بنانے میں تکلیف کا لفظ استعمال ہو ا ہے اور اگر وہ کام تکلف محض اور ریاکاری کیلئے ہو تو مذموم ہے اور آپ ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمانا کہ کہیے میں تکلف کرنے والوں میں سے نہیں اورحدیث پاک
میں ہے :
’’میں اور میری امت کے پرہیزگار لوگ تکلف سے اور بناوٹ سے بری ہیں ‘‘ اور فرمان الہی ہے : اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا (۲۔ ۲۸۶)
احادیث مبارکہ میں جہاں خاموشی کا ذکر ہو ا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شرع جس کسی چیز پر حکم میں اثبات اور ممانعت سے خاموش ہے وہ مسکوت عنہ میں شامل ہے اور وہ عفو کے قبیل سے ہے جس کا کرنا جائز اور مباح ہونا چاہئے لہذا ان کی مرضی سے اعمال
خواہ عبادات قولی ، فعلی یا مالی سے ہو یامعاملات دنیا سے وہ سب مسکوت عنہ کے تحت آتے ہیں ۔
لیکن جبکہ یہ محقق امر ہے کہ جو کام شرع کی اجازت کے بغیر حادث اور نو ایجاد ہو وہ بدعت اور ضلالت وگمراہی ہے اور بدعت ممنوع اور حرام ہے تو وہ چیزیں اور اعتقاد واعمال مسکوت عنہ نہ ہوئے ۔
مسکوت عنہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کا حکم کسی خاص یا عام دلیل سے معلوم نہ ہو بلکہ عفو کی احادیث سے بدعت کی تردید ہوئی ہے اور تحدیدوتعیین وتخصیص کی وجہ سے بدعت عفو کی احادیث کے خلاف ہوئی اور اس کے معنی کے خلاف ہوئی جو آپ نے لیے ہیں
۔شیخ ملاعلی القاری شرح مشکوۃ میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی اتباع جس طرح آپ کے اعمال مبارکہ میں واجب ہے اسی طرح آپ ﷺ کے چھوڑ ے ہوئے کاموں میں بھی ضروری ہے سو جو شخص ایسے کام پر ہمیشگی اختیار کرے جسے شارع علیہ السلام
نے کیا ہی نہیں تو وہ مبتدع اور بدعتی ہے اور بدعت کے مرد ود اور ضلالت وگمراہی ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں کیونکہ وہ فعلاً رسول اللہ ﷺ کی مخالف ہوتی ہے ۔
تنبیہ: بعض لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ بدعات کو روکنے والے ہر نئے کام کو بدعت قبیحہ کہتے ہیں خواہ دین کا ہو یا دنیا کا ، یہ سراسر بہتان وافتراء ہے ۔ مانعین صرف اس بات کو بدعت قبیحہ کہتے ہیں جو دین میں بدون اذن شرع کے ایجاد کیا گیا ہو حالانکہ اس
کا تقاضا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں بدون معارض موجود ہو اور نیا متقاضی بدون معصیت عباد پیدا نہ ہوا ہو۔ مثال: جیسے عیدین کی اذان نہیں کہی جاتی تقاضا بلانے اور جمع کرنے کا موجود تھا کوئی مانع بھی نہ تھا اس کے باوجود اس کو دعوت الی اللہ کے دلائل
سے ثابت کر کے جاری کیا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہ کرنا آپ ﷺ کی سنت ترکیہ کی اتباع ہے اور اب اگر کوئی اس کے لیے علت ومصلحت بیان کرے تو وہ معتبر نہ ہو گی کیونکہ شارع علیہ السلام نے اس علت کو نظرا نداز کر دیا ہے ۔ لہذا یہاں ممانعت کی دلیل نہ
ہونے کے باوجود اذان نہ کہی جائیگی۔ اور عام ادلّہ سے استدلال درست نہ ہو گا اگر مباح کے لیے میدان کھلا چھوڑ دیا جائے اور ممانعت کی شریعت پاک سے دلیل طلب کی جائے تو اس سے شریعت محمدی ﷺ بازیچہ اطفال بن جائیگی ۔ حالانکہ اس کی حدود
وقیود ہیں جیسے کہ قرآن پاک کے الفاظ کی من مرضی کی تفسیر پر حدیث وسنت نے قدغن لگائی ہے جس کا مفاد یہ ہے کہ قرآن کے معانی اور بیان عرف نبوی او ر اسوئہ نبوی ﷺ کے پابندہیں اور (کان خُلُقُہ القُرآن ) کا یہی مقصد ہے کہ قرآن کا مطلوب اسوئہ
رسول ﷺ ، ا سوئہ کامل اور مجسم قرآن ہے ۔ اور آپ ﷺ کی اتباع ہی اللہ تعالیٰ کی محبت کے حصول اور اس کی بارگاہ میں نجات کا ذریعہ ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو محمد رسول اللہ ﷺ کی تابعداری کرنے کی توفیق عطافرمائے ۔ (آمین)
ایسے بھی لوگ تھے
حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہو ا کہ فلاں مسئلہ تو مجھے معلوم ہے لیکن جو الفاظ رسول اللہ ﷺ کی زبا ن سے نکلے تھے وہ بھول گیا ہوں تو وہی الفاظ سیدنا عبدا للہ بن انیس رضی اللہ عنہ کی زبان سے سننے کیلئے شام کے دارالحکومت دمشق پہنچے ۔ اس کے لیے
منڈی سے جا کر سواری خریدی اور سفر کیا وہاں پہنچ کر ان کے دروازے پر دستک دی اور کہا کہ میں جابر (رضی اللہ عنہ)ہوں ، آپ سے ملاقات کیلئے مدینہ منورہ سے آیا ہوں ، انہوں نے کہا : جابر بن عبد اللہ ؟ کہا : جی ہاں تو جلدی سے باہر تشریف لائے ، معانقہ
کیا اور بہت خوش ہوئے پھر دریافت کیا کہ آپ نے اتنا لمبا سفر کیوں کیا؟ فرمایا: مجھے پتہ چلا کہ آپ کو رسول اللہ ﷺ سے اس مسئلے کے بارے میں وہ الفاظ یاد ہیں جو اس وقت آپ نے بیان کیے تو مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں میں وہ الفاظ سننے سے پہلے مرنہ جاؤں
انہوں نے جب وہ الفاظ سنائے وہ کہنے لگے اجازت دیجئے میں واپس چلتا ہوں عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ کوکھانے کی ضرورت ہے اور اس کے بعد واپس جاناہی ہے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر میں کھانے پینے اور آرام کرنے کی غرض سے رک
جاؤں تو یہ میرے مشن اور اخلاص کے منافی ہے جس کے لیے میں نے اتنا لمبا سفر کیا ہے
Pak Urdu Installer

فیس بک پر ہمارا صفہ

اپنے فیس بک پر لکھیں

مہمان ممالک

free counters