اسلام علیکم

محترم مہمان آپ کا
urduyahoo.blogspot.com
پر آنے کا بہت بہت شکریہ
اس بلاگ میں آپ کو اگر کوئی غلطی نظر آئے یا اس کی بہتری کے لئے اگر کوئی تجویز بھی دینا چاہیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے
اور اگر آپ کوئی تحریر شائع کروانا چاہتےہیں تو آپ ہمیں ای میل کریں
ؑEmail : jinnah332@yahoo.com



یوایس بی میں وائرس کی وجہ سے ہائیڈ ہوجانے والی فائلز اور فولڈر کا حل

0 تبصرہ جات
یوایس بی میں وائرس کی وجہ سے ہائیڈ ہوجانے والی فائلز اور فولڈر کا حل

بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ
اکثر و بیشتر دیکنھے میں آیا ہے کہ یو ایس بی ڈرائیوز میں ایسے وائرس آجاتے ہیں جو تمام فائلز اور فولڈرز کو چھپا/ ہائیڈ کردیتے ہیں۔
آج اللہ کے فضل و کرم سے اس کا حل لے کر حاضر خدمت ہوں
صرف اور صرف یو ایس بی کو کسی ایسے کمپیوٹر میں لگائیں جس میں وائیرس نہ ہو۔ پھر RUN میں CMD لکھ کر ڈاس/ DOS کھولیں اور نیچے دی گئي لائین کو لکھیں جہاں جی/G لکھا ہے وہاں آپنا ڈرائیو لیٹر لکھیں اور اینٹر داغ دیں۔ چند سکنڈ کے بعد آپ کی ڈرائیو میں تمام فولڈر ظاہر ہوجائیں گے ان شاء اللہ


اگر مزید مشکلات آرہی ہوں تو قریبی ڈاکٹر سے رجوع کریں(ابتسامہ)

شرائط ِخلافت

0 تبصرہ جات

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شرائط ِخلافت  

اللہ نے دین اسلام اس لیئے نازل کیا تاکہ اس کو پوری دنیا کے باطل ادیان پر غالب کیا جائے، اللہ کے نبی محمدﷺ نے ، اُن کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے، ان کے بعد تابعین نے، ان کے بعد اتباع تابعین نے اور ان کے بعد امت کے سلف صالحین نے اپنی طاقت سے بڑ کر اس مقصد کے لیئے کوششیں کی اور اسلام کو باطل ادیان پر غالب کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر موجودہ دور میں مسلمان شدید مغلوب ہوچکے ہیں، کلمہ پڑھنے والے اسلام کی تعلیمات سے بےبہرہ ہیں جس کی وجہ سے جہالت عام ہوچکی ہے اور مسلمان مغلوبیت کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں اور جو دین اور نظامِ زندگی اللہ نے مسلمانوں کو دیا تھا یعنی خلافت کا نظام اس کو غالب کرنے کی بجائے اس کو سرے چھوڑ ہی چکے ہیں اور اس کے مقابلے پر کافروں کے نظامِ زندگی اپنائے ہوئے ہیں، ایک بات یاد رکھیں اسلام صرف نماز، روزہ، حج اور زکوۃ کا ہی نام نہیں ہے بلکہ اصل اسلام کی روح اسلام کے نظامِ حیات میں ہے اگر وہ نظام ہمارے پاس نہیں تو سمجھ لیں کچھ بھی ہمارے پاس نہیں ہے۔

آج کا مضمون خلافت کا اہم حصہ خلیفہ کی شرائط جو قرآن اور صحیح احادیث سے ثابت ہیں پر پیش کر رہا ہوں۔ ایک فرمان رسولﷺ پیش کرکے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں ان شاءاللہ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا امام ڈھال ہے اس کے پیچھے سے لڑا جاتا ہے۔ ::بخاری و مسلم::یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا آج ہمارے پاس وہ امام یعنی خلیفہ موجود ہے؟؟؟ اگر نہیں ہے تو اس کو قائم کرنے کے لیئے ہم کیا اقدامات اور تدبیر اختیار کر رہے ہیں؟؟؟؟

خلیفہ کے مقتدرہونے کی بناء : مومنین کی نصرت


نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ

مَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُوْنَ شُرُوْ طًا لَیْسَتْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ فَھُوَ بَاطِلٌ وَ اِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللّٰہِ اَحَقُّ وَ شَرْطُ اللّٰہ اَوْثَقُ

لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا اللہ کی کتاب میں پتہ نہیں۔ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ ایسی سو شرطیں بھی ہوں ۔ اللہ ہی کا حکم حق ہے اور اللہ ہی کی شرط پکی ہے ۔ ( بخاری ،کتاب البیوع۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا)
نبی ﷺ کے اس ارشاد کی بناء پر ہر معاملے میں صرف وہی شرط اختیار کی جا سکتی ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺکی طرف سے پیش کی گئی ہو، اس بنا پر کسی شخص کے خلیفہ قرار پانے کی بناء بھی اللہ کی مقرر کردہ شرائط ہوں گی نہ کہ انسانوں کی پیش کردہ شرائط۔
کسی شخص کے خلیفہ قرار پانے کے لئے کتاب وسنت سے درج ذیل شرائط ہمارے سامنے آتی ہیں۔
۱۔ اہل ِ ایمان میں سے ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ !
یٰٓاَ یُّھَاا لَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی ا لْاَ مْرِ مِنْکُمْ

اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور صاحبانِ امر کی جو تم (اہل ایمان) میں سے ہوں۔
(۴:النساء ۔ ۵۹)

۲۔ مرد ہو

نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ!
لَنْ یُّفْلِحَ قَومٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً

وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جو عورت کو اپنا حاکم بنائے۔
(بخاری ،کتاب المغازی ۔ابو بکرہ رضی اللہ عنہ)

۳۔ قریشی ہو

نبیﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اَلاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ

امامت قریش میں رہے گی۔ (احمد: باقی مسند المکثرین۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْش ٍمَا بَقِیَ مِنْھُمُ اثْنَان ِ

یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی بے شک ان (قریش ) میں سے دو ہی آدمی باقی رہ جائیں۔
(بخاری ،کتاب الاحکام ۔عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ)
لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْش ٍمَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ

یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی بے شک انسانوں میں سے دو ہی آدمی باقی رہ جائیں۔
(مسلم:کتاب الامارۃ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ)
اِنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ فِیْ قُرَیْشٍ لَا یُعَادِیْھِمْ اَحَدَ اِلَّا کَبَّہُ اللّٰہُ عَلَی وَجْھِہٖ مَٓا اَ قَامُوْا الدِّیْنَ

یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے اور جو کوئی ان سے دشمنی کرے گا اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔ ( بخاری: کتاب الاحکام۔امیر معاویہ رضی اللہ عنہ)
حدیث بالا سے عام طور پر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب قریش دین کو قائم نہ رکھیں گے تو خلافت ان سے چھن کر غیر قریشیوں کے سپرد ہو جائیگی لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات واضح ہیں کہ ’’یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی‘‘ اس بنا پر آپ کے اس ارشاد کہ ’’ یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے‘‘ کا صاف مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ جب قریش دین کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو خلافت سرے ہی سے ختم ہو جائیگی نہ کہ غیر قریش کو منتقل ہو جائیگی درج بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیر قریشی کی خلافت غیر شرعی ہو گی۔
حبشی غلام کی خلافت کا مسئلہ

نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌ کَانَ رَأَسُہ‘ زَبِیْبَۃٌ

حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو بے شک تم پر ایک حبشی غلام مقرر کیا جائے جس کا سر منقے کی طرح ہو۔
(بخاری:کتاب الاحکام۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌحَسِبْتُھَا قَالَتْ اَسْوَدُ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْا۔

اگر تمہارے اوپر ہاتھ پاؤں کٹا کالا غلام بھی امیر بنایا جائے اور وہ تمہیں کتاب اللہ کے ساتھ چلائے تو اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ ( مسلم: کتاب الامارۃ ۔جدت یحیٰ بن حصین رضی اللہ عنہا)
بعض لوگ نبیﷺ کے درج بالا ارشاد ات کی بنا پرغیر قریشی کے علاوہ کسی غلام کو بھی خلیفہ بنانا جائز سمجھتے ہیں ۔جبکہ آپﷺ کے ارشادات کو غور سے پڑھنے سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے اسْتَعْمِلَ(استعمال کیا جائے) اور اُمِّرَ( امیرمقرر کیا جائے ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس استعمال کیے جانے والے یا مقرر کیے جانے والے امیرکے پس منظر میں اس سے بھی بڑی کوئی ایسی اتھارٹی موجود ہے جو اس کو استعمال کر رہی ہے یا امیرمقرر کر رہی ہے اور یہ بات طے ہے کہ کتاب و سنت میں امت کے اندر اللہ کے بعد سب سے بڑی اتھارٹی نبی کی ہوتی ہے اور اُس کے بعد خلیفہ کی جو امیر مقرر کرتی ہے جیسا کہ ذیل کی حدیث سے واضح ہوتا ہے ۔
بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِّنَ الْاَنْصَارِ وَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّسْمَعُوْا لَہٗ وَ یُطِیْعُوْ ہُ

رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقررکیا اور لوگوں کو اس کا حکم سننے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ۔ (مسلم :کتاب الامارۃ۔علی رضی اللہ عنہ)
درج بالا احادیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مقرر کیا جانے والا امیرخلیفہ نہیں بلکہ خلیفہ کی طرف سے مقرر کیا جانے والا کوئی ذیلی حاکم (سپہ سالار یا کسی صوبے یا محکمے کا امیر) ہے جو غیر قریشی بھی ہو سکتا ہے اور غلام بھی لیکن وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا ۔
۴۔ عاقل و بالغ ہو

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ !
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ﴿﴾ وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰٓی اِذَا بَلَغُوْا النِّکَاحَ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْآ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ

اور نہ دو کم عقلوں کو اپنے مال جس کو بنایا اللہ نے تمہارے لیے ذریعہ گزران اور کھلاؤ انہیں اس میں سے اور پہناؤ بھی اور سمجھاؤ انہیں اچھی بات۔ اور جانتے پرکھتے رہو یتیموں کو یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں نکاح کی عمر کو ، پھر اگر تم پاؤ ان میں عقل کی پختگی تو دے دو ان کو مال ان کے۔ (۴:النساء۔۵،۶)
درج بالا آیات میں یتیموں کوان کے مال صرف اس وقت حوالے کرنے کا حکم نکلتا ہے جب وہ عاقل و بالغ ہو جائیں۔ جب کسی کو اس کا مال اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ عاقل و بالغ نہ ہو جائے تو اہل ِ ایمان کی سیاست کی ذمہ داری کسی ایسے فردکو کیونکر دی جا سکتی ہے جو عاقل و بالغ نہ ہو۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلیفہ صرف اسی کو بنایا جائے گا جو عاقل و بالغ ہو ۔
۵۔ خلافت کی خواہش سے بے نیاز ہو

جیسا کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ!
تَجِدُوْنَ النَّاسِ مَعَادِنَ فَخِیَارُھُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقُھُوْا وَ تَجِدُوْنَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ فِی ھٰذَا الْاَمْرِ اَکْرَھُھُمْ لَہ‘ قَبْلُ اَنْ یَّقَعَ فِیْہِ

تم لوگوں کو معدن (معدنی کان سے نکلی ہوئی چیز) کی مانند پاؤ گے جو جاہلیت میں اچھا ہوتا ہے وہی اسلام میں بھی اچھا ہوتا ہے جب وہ دین کی سمجھ پیدا کرلے اور تم اس امر(خلافت) کے لیے وہی آدمی زیادہ موزوں پاؤ گے جو اس کو بہت بری چیز خیال کرے تا آنکہ ایسا شخص خلیفہ بنا دیا جائے۔
(مسلم: کتاب فضائل الصحابۃؓ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہا)

لَا تَسْأَلِ الْاِمَارَۃَ فَاِنَّکَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ مَسْئَلَۃٍ وُّ کِلْتَ اَلِیْھَا وَ اِنْ اُعْطِیْتَھَا عَنْ غَیْرِ مَسّْئَلَۃٍ اُعِنْتَ عَلِیْھَا

حکومت مت مانگوکیونکہ اگر یہ تجھے مانگنے پرملی تو تم (بے یارومددگار) اسی کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر بغیر مانگے ملی تو اس میں تمہاری مدد کی جائیگی۔ (مسلم:کتاب الامارۃ۔عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ)
عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ‘ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِیِّ ﷺ اَنَا وَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِیْ عَمِّیْ فَقَالَ اَحَدُ الرَّجُلَیْنِ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَمَّرَنَا عَلَی بَعْضِ مَا وَلَّاکَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ وَ قَالَ الْاَخَرُ مِثْلَ ذٰلِکَ فَقَالَ اِنَّا وَ اللّٰہِ لَا نُوَلِّیْ عَلٰی ھٰذَا الْعَمَلِ اَحَدًا سَأَلَہ‘ وَلَآ اَحَدًا حَرَصَ عَلَیْہِ
ابو موسٰی ؓ سے روایت ہے کہ میں اپنے دو چچا زاد بھائیوں کے ساتھ نبیﷺ کے پاس حاضر ہوا ان میں سے ایک بولا اے اللہ کے رسول ﷺہمیں کسی ملک کی حکومت دے دیجئے ان ملکوں میں سے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیے ہیں اور دوسرے نے بھی ایسا ہی کہا آپ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم نہیں دیتے اس شخص کو جو اس کو مانگے اور نہ اس کو جو اس کی حرص کرے۔ (مسلم،کتاب الامارۃ۔ابی موسٰی اشعری رضی اللہ عنہ)
۶۔ پہلی بیعت کا حامل ہو

پہلی بیعت، عہدہِ خلافت خالی ہونے پر گواہوں کی موجودگی میں شرائط ِخلافت کے حامل کسی شخص ‘‘کے ہاتھ پرایک مومن کی طرف سے ہونے والی وہ بیعت ہے جو نیا خلیفہ بنانے کے حوالے سے امت میں سب سے پہلی بیعت ثابت ہو جائے ۔پہلی بیعت کا حامل اگردیگر شرائط خلافت پوری کرتا ہے تو اس پہلی بیعت کے منعقد ہونے کے وقت سے پوری اُمت کے لئے خلیفہ قرار پا جا تا ہے۔
٭ دیگرشرائطِ خلافت کا حامل ’’پہلی بیعت ‘‘کی فیصلہ کن شرط کا حامل ہو کر ’’سیاستِ اُمّہ کا ذمہ دار
و عہدہ دار قرارپاجاتا ہے اوراس حوالے سے نام ِ عہدہ ’’خلیفہ‘‘ کا حامل ہو کر خلیفہ کہلاتا ہے ۔
٭ دیگرشرائطِ خلافت کا حامل ’’پہلی بیعت ‘‘کا حامل ہو کر سیاستِ اُمّہ کی ذمہ داری کے حوالے
سے نبی ﷺ کانائب و جانشین قرار پا جاتا ہے اوراس حوالے سے خلیفہ کہلاتاہے ۔
٭ دیگرشرائطِ خلافت کا حامل پہلی بیعت کا حامل ہو کر تمام مسلمین کی سلطنت کا اُصولاًخلیفہ::وارث::
قرار پا جاتا ہے پھر مسلمین کی طرف سے اپنی سلطنت کے اس اصولاً خلیفہ کواپنی بیعت ،اطاعت
ونصرت کے ذریعے اپنی سلطنت سپرد کر دینے سے یہ’’عملاً خلیفہ ‘‘ بن جاتا ہے۔
خلیفہ مومنین کی نصرت میسرآنے سے سلطنت و اقتدار کا حامل ہوتا ہےجیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حامل ہوئے تھے
نبیﷺ اللہ کے مقرر کردہ نشانیوں کی بناء پر اللہ کے نبی تھے اور اس بنا پراصولاً تمام جن و انس کے حکمران اور تمام روئے زمین کے اقتدار کے حقدار تھے مگر اپنی بعثت کے ساڑھے تیرہ سال بعد تک روئے زمین کے کسی حصے پر اقتدار کے ’’عملاً حامل ‘‘ نہ ہو سکے تھے۔ آخر کار اللہ کی طرف سے آپ کو مومنین کی نصرت میسر آئی جس کے ذریعے سے شروع میں آپ مدینہ کی چھوٹی سی ریاست پرعملاًمقتدر ہوئے پھر مومنین کی نصرت ہی کی بنا پر قتال کے قابل ہوئے اور اس نصرت کے ذریعے سے اس چھوٹی سی ریاست کو وسعت دینے کے قابل ہوئے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ !
فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ ط ھُوْالَّذِیْ ٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ﴿﴾

تو یقینا کافی ہے تمہارے لیے اللہ ۔ وہی تو ہے جس نے قوت بہم پہنچائی تمھیں اپنی نصرت سے اور مومنین کے ذریعہ سے۔
(۸:الانفال۔ ۶۲)

جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ پہلی بیعت کا حامل ہو جانے والا ’’اس پہلی بیعت سے ‘‘ خلیفہ قرار پاجا تا ہے اور تمام اہلِ ایمان پر لازم ہو جاتا ہے کہ اس کے ساتھ وفاداری نبھائیں اور اسے اس کے حقوق (بیعت ، اطاعت و نصرت) دیں۔ یوں وہ ’’ صرف ایک شخص‘‘یعنی پہلی بیعت کرنے والے پر مقتدر ہونے کی انتہائی کمزور حالت سے دیگر مومنین کی طرف سے بیعت کرتے چلے جانے ،ان کی طرف سے اپنے اوپراس خلیفہ کا اختیار و اقتدار تسلیم کرتے چلے جانے، اس کی اطاعت اختیار کرتے چلے جانے اور اس کی نصرت پر کاربند ہوتے چلے جانے سے یہ خلیفہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔
پہلی بیعت کا حامل ہونے والا نبی ﷺ کی طرح اصولاً تو تمام اہل ِ ایمان کے لیے خلیفہ ، امیر، امام اور سلطان مقرر ہوتا ہے لیکن عملاً اس کا اقتدار وہاں تک قائم ہوتاہے جہاں تک کے لوگ اس کی بیعت و اطاعت اختیار کرتے ہیں جیسے نبیﷺ اصولاً تو تمام روئے زمین کے لیے مقتدر مقرر کیے گئے تھے لیکن عملاً آپؐ کااقتدار وہاں تک قائم ہوا تھا جہاں تک کے لوگ آپؐ پر ایمان لائے یا ایمان نہ لانے کے باوجود اہل ِ ایمان کی نصرت کے نتیجے میں آپ کے مطیع (ذمی) ہوئے۔
جوں جوں لوگ خلیفہ کی بیعت، اطاعت و نصرت اختیار کرتے چلے جاتے ہیں اس کی امامت ، امارت اور سلطنت و اقتدارکا دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا اقتدار
تمام مومنین کی بیعت ، اطاعت و نصرت میسر
آ جانے کی بنا پر تمام بلادِ اسلامیہ پر با آسانی قائم ہو گیا
ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ پر پہلی بیعت کے انعقاد سے پہلے اگرچہ دیگر شرائط پوری کرتے تھے لیکن آپ ابھی ’’خلیفہ ‘‘نہیں تھے ورنہ صحابہ، عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے آپؓ کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے پہلے ہی آپ ؓ پر مجتمع ہو جاتے جبکہ ایسا نہ ہو سکا مگر جونہی آپ کے ہاتھ پر عمرؓ کے بیعت کرنے سے پہلی بیعت منعقد ہو گئی ا ٓپ خلیفہ قرار پا گئے مگر بیعت ہوتے ہی سب سے پہلے آپؓ کا اقتدار اس شخص پر قائم ہوا جس نے آپؓ کی بیعت کر کے اپنے اوپر آپؓ کا اقتدار تسلیم کیا یعنی عمر رضی اللہ عنہ ،پھر آپ کا اقتدار ثقیفہ بنی ساعدہ میں موجود بقیہ، بیعت کر کے آپکا اقتدار تسلیم کرنے والوں پر قائم ہوا پھر بقیہ افرادِ امت کے بیعت کرتے چلے جانے اور آپ کی اطاعت و نصرت اختیار کرتے چلے جانے سے آپ کے اقتدار کا دائرہ وسیع تر ہوتا گیا مگر یہ وسیع ہوتا ہوا دائرہ وہاں رک گیا جہاں مرتدین و منکرین زکوٰۃ کی حدیں شروع ہو گئیں۔ وہاں اہل ِ ایمان کی نصرت ہی سے ان کی سرکوبی ممکن ہوئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں ان تمام بلادِ اسلامیہ پر آپ کا اقتدار قائم ہو گیا جو نبیﷺ چھوڑ کر گئے تھے پھر اہل ِایمان کی نصرت ہی سے آپ کے اقتدارکا دائرہ کار پہلے سے زیرِ خلافت علاقوں سے بھی آگے بڑھنا شروع ہو گیا۔
علی رضی اللہ عنہ کا اقتدار شام کے مومنین کی بیعت ، اطاعت اور نصرت میسر نہ آ نے کی بنا پر بلاِ دِ شام پر قائم نہ ہو سکا

ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد آنے والے دو خلفاء کا اقتدار بھی تمام اہلِ ایمان کی وفاداری فوراً میسر آ جانے پر پورے بلادِ اسلامیہ پر باآسانی قائم ہو گیا مگر علی رضی اللہ عنہ کو اہلِ شام کی بیعت، اطاعت و نصرت میسر نہ آ سکنے پر آپؓ کا اقتدار بلادِ شام پر قائم نہ ہو سکا۔
خلیفہ مقرر کرنے سے پہلے مجوزہ شخص پر اتفاق ِاُمت کی شرط

بعض لوگ کہتے ہیں کہ خلیفہ مقرر کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ساری اُمت خلیفہ کے لیے مجوزہ شخص پر متفق ہو چکی ہو۔
یہ شرط رکھنے والوں سے سوال ہے کہ اللہ کی شریعت میں اگریہ چیز شرط ہے تو لمبا عرصہ گزر چکاتھاخلافت کو ختم ہوئے آپ لوگ کسی ایک شخص پر متفق کیوں نہیں ہو گئے؟ جواب میں عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ ہم نے تو ایک بہترین لیڈر پیش کیا تھا ( پارٹیوں والے اپنے اپنے لیڈر کا نام لیتے ہیں ) لوگ اس پر متفق نہیں ہوئے تو یہ لوگوں کا قصور ہے۔
’’ بعض لوگوں کے پسندیدہ لیڈر‘‘ پر تمام لوگ متفق نہیں ہوئے تو یہ لوگوں کا قصور نہیں بلکہ یہ فطرت کا تقاضہ ہے کیونکہ!
۱۔ اختلاف انسانوں کی فطرت میں داخل ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّلَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَ﴿﴾ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّکَ ط وَ لِذٰلِکَ خَلَقَھُمْ

اگر تیرا رب چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک ہی جماعت بنا دیتا مگر وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے سوائے ان کے جن پر رحمت ہو تیرے رب کی اور اسی (امتحان) کے
لیے اس نے پیدا کیا ہے انہیں۔
(۱۱:ھود۔ ۱۱۸،۱۱۹)
۲۔ اہل ِ ایمان اگر کسی چیز پرمتفق رہ سکتے ہیں تو وہ صرف اللہ اور اسکے رسولﷺ کی بات ہے، اسی سے نکلنے کی بنا پر وہ تنازعے میں مبتلاء ہوتے ہیں، اور اگر وہ تنازعے میں مبتلا ہوجائیں تو جس بات پہ وہ دوبارہ متفق ہو سکتے ہیں وہ بھی صرف اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بات ہے کیونکہ اسی کا انہیں حکم دیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں کہ
وَاعْتَصِمُوْابِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلَاتَفَرَّقُوْا

اور تم سب مل کر حبل ِاللہ(کتاب اللہ) کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں مت پڑو کرو۔
(۳۔آلِ عمران۔۱۰۳)
وَاَطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوُلَہٗ وَلَا تَنَازَعُوْا

اوراطاعت کرو اللہ کی اور اس کے رسول کی اور تنازعہ مت کرو(۸:انفال۔۴۶)
فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِط ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا﴿﴾

اگر تمہارے درمیان کسی معاملے میں تنازعہ پیدا ہو جائے تو اسے لوٹا دو فیصلے کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی طرف اگر تم اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی چیز اچھی ہے اور انجام کے اعتبار سے بہترین بھی ۔ ( ۴: النساء۔۵۹)
۳۔ اہل ِ ایمان از خود یا کسی کی دعوت دینے پر بھی کسی ایسی چیز یا شخص پرمتفق نہیں ہو سکتے جس پرمتفق ہونے کے لیے کوئی شرعی دلیل نہ ہو جبکہ اندھا دھند(اندھی تقلید میں) کسی کے جھنڈے تلے لڑتے ہوئے قتل ہو جانے کو جاہلیت کا قتل بھی کہا گیا ہے۔نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ
مَنْ قَاتَلَ تَحْتَ رَاْیَۃٍ عِمِّیَّۃٍ یَِغْضَبُ لِعَصَبَۃٍ اَوْ یَدْعُوْا اِلٰی عَصَبَۃٍ اَوْ یَنْصُرُ عَصَبَۃً فَقُتِلَ فَقِتْلَۃٌ جَاھِلِیَّۃٌ

جو شخص اندھا دھند(اندھی تقلید میں)کسی کے جھنڈے تلے لڑتا ہوا مارا جائے جوگروہ کے لئے غضب ناک ہو ،گروہ کی طرف دعوت دے اورگروہ کی نصرت کرے اور قتل ہوجائے تو ا س کا قتل جاہلیت کا قتل ہے۔
مسلم: باب الامارہ۔ ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ
نبیﷺ کی وفات کے فوراً بعد، انبیاء کے بعد سب سے بہترین لوگ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ازخودکسی شخص پر متفق نہیں ہو پا رہے تھے اور اس سلسلے میں ان کے تین گروہ بن گئے تھے۔ مہاجرین کی اکثریت نے ابو بکرؓ پر اتفاق کر لیا تھامگر علیؓ اور زبیرؓ اور ان کے ساتھ والوں نے اختلاف کیا تھااور انصار اپنے میں سے خلیفہ بنانا چاہتے۔
ابو بکررضی اللہ عنہ بیعت سے پہلے امت میں بہت محترم اور دیگر شرائط ِ خلافت کے حامل تو تھے مگر اطاعت کے لیے ابھی فیصلہ کن شرعی دلیل کے حامل نہ تھے اس بنا پر صحابہؓ ان کے موجود ہونے کے باوجود ان پر مجتمع نہیں ہو پا رہے تھے مگر ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ اپنے ہاتھ پر عمررضی اللہ عنہ کے بیعت کرنے کے ساتھ ہی ’’ پہلی بیعت‘‘ کی فیصلہ کن شرعی دلیل کے حامل ہو گئے اس کے ساتھ ہی اُمت کے خلیفہ و امام قرار پا گئے اب ان سے اختلاف رکھنے والوں کے لیے بھی کوئی چارہ اس کے سوا نہ رہا تھا کہ شرعی دلیل کے حامل اس شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کی اطاعت اختیار کر لیں۔ صحا بہ رضی اللہ عنہم اندھی تقلید میں ابو بکر ؓ جیسی عظیم المرتبت شخصیت پر بھی متفق نہ ہو سکے لیکن جونہی آپ شرعی دلیل کے حامل ہو گئے صحابہ رضی اللہ عنہم ان پر باآسانی متفق ہو گئے۔
اس ساری تفصیل سے تقررِ خلیفہ کے حوالے سے جو اصول واضح ہوتا ہے وہ ’’ تقررِخلیفہ سے پہلے اتفاقِ امت‘‘ کی بجائے شرعی دلیل کی بنا پر خلیفہ قرار پا جانے والی شخصیت پر اتفاقِ امت ہے‘‘ اور نبیﷺ بھی ہر امتی کو’’پہلی بیعت ‘‘ کے حامل سے وفاداری کرنے اور اسے اس کا حق دینے کا حکم دے رہے ہیں نہ کہ پوری اُمت کو متفق ہو کے پہلی بیعت کرنے کا حکم دے رہے ہیں۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ
فُوْابِبَیْعَۃِ الْاَوَّلِ فَالْاَ وَّلِ اَعْطُوْ ھُمْ حَقَّھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ سَآئِلُھُمْ عَنْ مَّا اسْتَرْعَا ھُمْ۔

پہلی بیعت کے (حامل کے) ساتھ وفاداری کرو پھر پہلی کے ساتھ تم انہیں ان کا حق دو، ان سے انکی رعیت کے بارے میں اللہ پوچھے گا۔ (بخاری :ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)
اگر کسی کے خلیفہ قرار پانے کے لئے اتفاق ِ اُمت شرط ہوتا تو پھراُمت پر صرف بارہ خلفاء کا وجود مانا جانا چاہیے کیونکہ اُمت پر صرف بارہ خلفاء ایسے گذریں گے جن پرپوری اُمت متفق ہو سکے گی جیسا کہ نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ
لَا یَزَالُ ھٰذَالدِّیْنُ قَائِمًا حَتّٰی یَکُوْنُ عَلَیْکُمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً کُلُّھُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ لْاُمَّۃُ فَسَمِعْت کَلَامًا مِنَ النَّبِیِّ ﷺ لَمْ اَفْھَمْہُ قُلْتُ لِاَبِی مَا یَقُوْلُ قَالَ کُلُّھُمْ مِنْ قُرَیْشٍ

یہ دین قائم رہے گا جب تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ایسے نہ گذر جائیں جن پر اُمت مجتمع ہوگی،(راوی کہتے ہیں) پھر میں نے نبی ﷺ سے ایسی بات سُنی جسے میں سمجھ نہ سکا، میں نے اپنے باپ سے پوچھا، اُنہوں نے کہا کہ’’ تمام قریش میں سے ہوں گے۔
ابی داود: کتاب المہدی۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ

خلیفہ کے لئے لوگوں کی پیش کردہ شرط’’اتفاق ِ اُمت ‘‘ کو صحیح مان لیا جائے تو پھر علی رضی اللہ عنہ اور حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نہیں مانا جانا چاہیے کیونکہ دونوں جب تک خلیفہ رہے ان پر پوری اُمت مجتمع نہیں ہوسکی تھی ۔
آخر میں اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہم سب کلمہ پڑھنے والوں کو قرآن اور نبی ﷺ کے فرمان پر مجتمع فرمادے تاکہ پھر سب مسلمان مل کر اللہ کا نازل کردہ نظامِ حکومت یعنی خلافت دینا میں قائم کرسکیں آمین ثم آمین یارب العالمین

پی۔ڈی۔ایف فائل اُتاریں

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

0 تبصرہ جات

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

پاکستان میں آجکل ہر طرف ایک مایوسی کی فضا دکھائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب ہمت ہار بیٹھے ہیں اور تمام امیدیں ترک کر دی ہیں۔ میری پچھلی تحاریر میں سے ایک مضمون خود کشی پر مبنی تھا جو کئی افراد کو گراں گزرا۔ اس کی ایک دفعہ وضاحت دینا چاہتا ہوں کہ کسی کے خود کشی کرنے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس خود کشی کرنے والے شخص کا اللہ تعالیٰ پر قطعی یقین نہیں تھا کیونکہ مشکل کشاء صرف اللہ تعالیٰ ہے، رازق، حفیظ صرف اللہ تعالیٰ ہے اور میری عقل و دانش کے مطابق وہ شخص انتہائی درجہ کا بدنصیب ہے جو اللہ تعالیٰ پر یقین نہیں کرتا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں پر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ سے نہیں مانگتا اور اللہ تعالیٰ کے بندوں سے مانگتا ہے جن کو انتہائی محدود اثر ورسوخ بھی اللہ تعالیٰ نے ہی دیے ہیں لیکن یہ باتیں ان کو ضرور سمجھ آ سکتی ہیں جن کے دلوں پر فی الوقت ان کے دماغ اور عقل غالب نہیں آئی۔ دین، مذہب اور یقین کا تعلق دل سے ہے دماغ سے نہیں۔۔ دماغ اسباب کو ڈھونڈتا ہے۔۔ دل اسباب فراہم کرنے والے کو ڈھونڈتا ہےاسی لیے اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دل کے ٹھیک ہونے پر زور دیا ہے۔
دنیا کی تمام اسلام دشمن اور مسلم کش طاقتوں کی آنکھوں میں پاکستان کا وجود پہلے دن سے کھٹکتا آیا ہے۔ ہمارے چند دوست کہتے ہیں کہ پاکستان سے کیا ڈرنا۔۔۔ پاکستان تو کھوکھلا ہو چکا ہے، لیکن اگر تاریخ کا مطالعہ کریں اور تاریخ کے اوراق کو الٹ پلٹ کر دیکھیں تو پاکستان کے وجود کی اہمیت، اس کا مقصد اور اس کی ہیبت کا انداذہ ہو جاتا ہے۔ اس معاملے میں بانی تنظیم اسلامی، ڈاکٹر اسرار احمد نور اللہ مرقدہُ نے بہت کام کیا ہے۔
جب تحریک پاکستان عروج پر تھی تو اس وقت پاکستان کے وجود میں آنے سے پہلے اور بعد میں بھی پوری دنیا میں کئی جگہوں پر اسلامی ممالک کی تحریکیں چلیں اور کامیاب ہوئیں لیکن وہ تمام تحریکیں قومیت کی بنیاد پر تھیں جیسے انڈونیشیا کے لیے تحریک چلی، خلافت کے گڑھ ترکی میں مصطفیٰ کمال نے ترک قومیت کی بنیاد پر تحریک چلائی جو کامیاب رہی لیکن پوری دنیا میں ایک واحد تحریک پاکستان تھی جس کی بنیاد اسلام تھا۔
پاکستان کا مطلب کیا – لا الہ الا اللہ
اس سے قبل خلافت کے استحقام کے لیے پوری دنیا میں کسی مسلم ملک اور کسی مسلمان میں کوئی اضطراب نہیں پایا گیا لیکن صرف اسی جگہ پر تحریک خلافت اٹھی جو کامیاب تحریک تھی، پورے ہندوستان جو جس نے اپنی لپیٹ میں لے لیا جبکہ خلافت صرف اس وقت کے ہندوستان کے مسلمانوں کے لئے مقدم نہیں تھی بلکہ یہ تو تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے مقدم و مقدس ہے لیکن اضطراب صرف یہیں پایا گیا۔
پھر پاکستان کے ساتھ کئی دوسرے مسلم ممالک وجود میں آئے لیکن صرف پاکستان کو اسلام کا قلعہ کہا گیا، صرف پاکستان کے لیے لا الہ الا اللہ کا نعرہ منتخب کیا گیا جو آج بھی باب آزادی پر ثبت ہے اور وہ باب آزادی پوری دنیا کو پیغام دیتا ہے کہ حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔
اس کے بعد اسرائیل ایٹمی طاقت بنا۔۔ کہیں پر نہیں کہا گیا یہودی بم، ہندوستان کے نیوکلیئر ٹیسٹ پر کسی نے ہندو بم کا نعرہ نہیں لگایا لیکن جب پاکستان نیوکلئر طاقت بنا اور ایٹم بم کا تجربہ کیا، پوری عالم اسلام اور پوری دنیا میں اسلامی بم کا نعرہ بلند ہوا۔
عرب کے کئی اخباروں میں اگلے دن اسلامی بم کی شہ سرخیاں آویزاں تھیں۔ فلسطینی روزنامہ عرب الیوم میں خبر اسطرح چھپی تھی کہ
اس خطہ میں ہم اسلامی نیوکلئر بم کی پیدائش پر اندرونی طور پر مسرت محسوس کرتے ہیں۔
لبنانی روزنامہ النحر نے اپنے شہ سرخی پر یہ خبر چھاپی کہ
پاکستان دنیا اسلام کی پہلی نیوکلئر طاقت ہے۔
ایک اور لبنانی روزنامہ الحیات کہتا ہے کہ
پاکستان دنیا کا ساتواں اور عالم اسلام کا پہلا نیوکلئر طاقت کا حامل ملک ہے۔
ایک اور عرب روزنامہ اشراق میں ایک مضمون چھپا جس کا موضوع تھا
اسلامی بم، ایک خواب جو شرمندہ تعبیر ہوا
کویتی اخبار القباس اور الوطن کے مطابق پاکستان کے نیوکلئر تجربہ کی وجہ سے اسلامی دنیا مضبوط ہوئی ہے۔ الغرض پورے عالم اسلام میں اس طرح کی کئی سرخیاں، خبریں، مضامین اور لوگوں میں مسرت اور جذبہ پایا گیا جو پاکستان کے نیوکلئر طاقت بننے کی وجہ سے تھا۔
اس کے بعد جب سے یہ نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوئی ہے، جب جارج بُش برطانیہ میں وہاں کے افواج کو اس میں شرکت کے لئے اکسانے گیا، تو اس پریزنٹیشن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے الفاظ قطعی استعمال نہیں ہوئے بلکہ اُدھر اس جنگ کو “کروسیڈ” کا نام دیا گیا جس کا بنیادی ایجنڈا یہ پیش کیا گیا کہ یہ مسلمان خلافت چاہتے ہیں اور جس دن خلافت قائم ہو گئی، اس دن اپنا نوحہ خود پڑھ لینا، لہٰذا اس سے پہلے کہ خلافت قائم ہو، ان مسلمانوں کو کچل دینا چاہیے اور جس جگہ کو ریڈ زون کا خطاب دیا گیا جہاں سے خلافت کا سب سے زیادہ خطرہ ہے، وہ پاکستان تھا کہ ہماری سالمیت کے لیے پاکستان سب سے زیادہ خطرناک ہے، یہاں کی افواج اور عوام اسلام کے نام پر بہت جذباتی اور کچھ بھی کر گزرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے مظاہرہ دیکھ لیا تھا کہ 1965ء میں اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کو ناکوں چنے چبوا دیے، افغان جہاد میں وقت کی سپر پاور سویت یونین کے ٹکڑے کر کے رکھ دیے صرف جذبہ ایمانی کے بنیاد پر۔ افغان طالبان کو بھی ٹریننگ پاکستان کی افواج اور پاکستانی جرنیلوں نے دی تھی جو آج امریکہ سمیت پورے نیٹو اتحاد کے ممالک کی افواج کو بھی شکست دے رہے ہیں۔
پھر پاکستان کے نیوکلئر وار ہیڈز ایسی جگہ پر ہیں کہ آج تک کوئی ملک یہ معلوم نہیں کر سکا کہ یہ لیبارٹریاں کدھر واقع ہیں، ان کی اصل لوکیشن کیا ہے ۔ جو دل پر یقین رکھتے ہیں وہ یہی مانتے ہیں کہ ادھر اللہ تعالیٰ کی افواج کا پہرہ ہے، ادھر کوئی اسلام دشمن اور پاکستان دشمن جانا تو دور کی بعد، ادھر دیکھ تک نہیں سکتا الحمد اللہ۔
اس کے بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث موجود ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہُ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جب بڑی بڑی لڑایاں ہوں گی تو اللہ تعالیٰ عجمیوں سے ایک لشکر اٹھائے گا۔ جو عرب سے بڑھ کر شاہ سوار اور ان سے بہتر ہتھیار والے ہوں گے۔ اللہ ان کے ذریعے دین کی مدد فرمائے گا۔
اس کے ساتھ صحیح مسلم میں ایک حدیث حضرت اب عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہُ سے مروی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
مجھے ہند کی سرزمین سے ٹھنڈی ہوائیں آتی ہیں۔
جس کی بنیاد پر مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
میر عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے میرا وطن وہی ہے
اس وقت بھی پوری دنیا میں اسلام کے تبلیغ و اشاعت کے لیے سب سے زیادہ کام پاکستان میں ہو رہا ہے۔ دنیا کے ہر کونے میں کہیں نہ کہیں آپ کو ایک پاکستانی ضرور ملے گا جو تبلیغ دین کا کام کر رہا ہو گا۔ یہ اعزاز بھی پاکستان کے پاس ہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ معتبر علماء پاکستان کے ہیں۔
اس کے علاوہ حضرت امام مہدی کے نصرت کے لیے جو لشکر اللہ تعالیٰ اٹھائے گا وہ بھی مشرقی ملک سے ہو گا اور پاکستان مشرق میں موجود ہے۔ یہ سب جو احوال و حوالہ جات ہیں، یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان ایوئیں وجود میں نہیں آ گیا، بلکہ اس کا وجود میں آنا اور قائم رہنا پہلے سے ثابت تھا۔ جہاں تک موجودہ حالات کا تعلق ہے، تو اس معاملے میں میرا ذاتی یقین یہ ہے کہ سونا آگ میں جل کر ہی کندن بنتا ہے۔ پاکستان سے اور پاکستان کی افواج اور عام سے اللہ تعالیٰ نے کچھ نہ کچھ کام لازمی لینا ہے جس کے لیے مسلسل لوگوں کو آزمایا جا رہا ہے، اور پھر جو لوگ چنے جائیں گے اور ان امتحانات میں کامیاب رہیں گے، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت اور فضل اور مدد و نصرت سے ان کو فاتحین میں شامل فرمائیں گے ان شاء اللہ۔
لوگ ایبٹ آباد کے واقعہ کا ذکر کرتے ہیں، تو اس پر بھی میرا یہ ماننا ہے کہ چاہے وہ ایک ڈھونگ اور ڈھکوسلہ تھا اور ایک سنگین کوتاہی اور حکومت وقت کی طرف سے صریحاً غداری کا ثبوت تھا لیکن ایبٹ آباد کے واقعہ کی وجہ سے ہمارے سامنے امریکہ کا ایک خفیہ ہتھیار سامنے آ گیا جس سے پہلے ہمارے سمیت پوری دنیا ناواقف تھی، سٹیلتھ ہیلی کاپٹر جس نے ریڈار کو چکمہ دے دیا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ ہر وقوع پذیر ہونے والے واقعہ کی کوئی نہ کوئی حکمت لازمی ہوتی ہے جو ہمارے لیے بہرصورت فائدہ مند ہوتی ہے، لیکن اس کو پہچاننے کے لیے اپنے دماغ کو ٹھنڈا، دل کا یقین اور دیکھنے والی آنکھ کا ہونا لازمی ہے، چاہے ہمارے لیے اس واقعے کی نوعیت خوشگوار ہو یا تلخ ہو، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، جو بھی ہوتا ہے وہ بہرصورت کسی نہ کسی فائدہ کے لیے ہی ہوتا ہے۔
آخر میں حکیم الامت، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ کے چند اشعار ہی بطور پیغام کہنا چاہوں گا کہ
خدائے لم یزل کا دست قدرت تو، زباں تو ہے
یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلماں کی
ستارے جس کی گردِ راہ ہوں، وہ کارواں تو ہے
یہ نکتہ سرگزشت ملت بیضا سے ہے پیدا
کہ اقوام زمین ایشیا کا پاسبان تو ہے
سبق پڑھ پھر صداقت کا، عدالت کا، شجاعت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
اللہ تعالیٰ ہمیں سمجھے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور تمام امت مسلمہ کو متحد و متفق فرمائے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستان کی عوام کا حامی و ناصر ہو اور پاکستان کو اصل میں اسلامی مملکت پاکستان اور اسلام کا قلعہ بنائے ۔ آمین

تحریک طالبان پاکستان کون اور اغراض و مقاصد۔

0 تبصرہ جات

تحریک طالبان پاکستان کون اور اغراض و مقاصد۔


پہلے دور میں جنگیں ایک قسم کی ہوتی تھیں، جب دونوں افواج ایک دوسرے کے سامنے سینہ سپر ہو جاتی تھیں اور بھڑ جاتی تھیں، سب کو معلوم ہوتا تھا کہ کون دشمن ہے اور کون دوست۔ موجودہ دور میں صورتحال بالکل مختلف ہے۔ اب جنگ لڑنے کے کئی طریقے متعارف ہو چکے ہیں اور ان میں سب سے خطرناک طریقہ کہ جب دشمن آپ کے روپ میں آپ کے سامنے آ جائے اور اس تذبذب میں ڈال دے کہ آیا وہ دوست ہے یا دشمن۔
پاکستان کی افواج اس وقت ایسی ہی جنگ سے دوچار ہے اور وزیرستان میں ایسے ہی دشمن کے خلاف سینہ سپر ہے جو مسلمانوں کا روپ دھارے مسلمانوں کے خلاف ہی لڑ رہا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کو کئی لوگ کہتے ہیں کہ یہ عام قبائلی لوگ تھے، جب ان کے خلاف آپریشن ہوا تو یہ رد عمل میں نکل کھڑے ہوئے جو نوے فیصد تک غلط بات ہے۔ اگر یہ مقامی قبائلی افراد ہیں، اور اگر یہ افواج کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں۔ جب غسل کا وقت آتا ہے تو یہ غیر مسلم کیونکر نکلتے ہیں۔ اکثریت نے وہ فرائض نہیں پورے کیے ہوتے جو ایک مسلمان مرد پر فرض ہیں۔ دس فیصد ان میں ایسے افراد ضرور موجود ہیں جو واقعتاً مسلمان ہیں، ان کے جھانسے میں آ چکے ہیں، جن کے دماغوں کو بالکل خالی کر دیا گیا ہے اور اب وہ ایک چلتا پھرتا روبوٹ ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کے بنیادی طور پر دو مقاصد ہیں لیکن یہ مقاصد عرض کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ایک امر کی وضاحت کی جائے۔ تحریک طالبان پاکستان اور تحریک طالبان افغانستان دو بالکل مختلف تنظیمیں ہیں۔ تحریک طالبان افغانستان ملاء محمد عمر کے حکم کے زیر اثر کام کرتے ہیں اور افغان طالبان کا تحریک طالبان پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ملاء محمد عمر اور تحریک طالبان افغانستان کا ایک ایک فرد سو فیصد پاکستان کی حمایت میں ہیں۔ اگر تحریک طالبان پاکستان کا افغان طالبان سے کوئی تعلق یا نسبت ہوتی تو ملاء محمد عمر کا وہ خط قطعی رد نہیں کیا جاتا جو کرنل امام کی رہائی کے لیے لکھا گیا تھا۔
تحریک طالبان پاکستان کا اصل اور بنیادی مقصد پاکستان کو دنیا کے سامنے ایک فیلڈ سٹیٹ کے طور پر سامنے لانا ہے، یعنی پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو اپنی سرزمین کا دفاع تک نہیں کر سکتی، ادھر اسلحہ بردار افراد کھلے عام گھومتے پھرتے اور حکومتی رٹ کو چیلنج کرتے ہیں لہٰذا ایسے ملک کے پاس روایتی اور جوہری ہتھیار ہونا بالکل بھی خطرے سے خالی نہیں۔
اس کالعدم تنظیم کا دوسرا بنیادی مقصد اپنے ظالمانہ اور انسانیت سوز حرکتوں اور رویوں سے تحریک طالبان افغانستان کو بدنام کرنا ہے، یعنی دنیا کے سامنے یہ تصویر آ جائے کہ طالبان بہت ہی ظالم ، جابر اور سفاک قسم کے لوگ ہیں، ان کے لیے انسانی زندگی کی کوئی وقعت نہیں اور یہ کہیں بھی کبھی بھی کسی بھی انسان کو ہلاک کر سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
ان مقاصد کو پورا کرنے میں ہمارے میڈیا چینلز اور میڈیا اینکرز کا بہت بڑا کردار ہے جو انہوں نے بخوبی نہایت احسن طریقے سے پورا کیا ہے اور ملک و قوم سے غداری کے “فرائض” خوبصورتی سے ادا کیے ہیں۔ اب ہر پاکستان خاص و عام بغیر سوچے سمجھے افواج پاکستان کو لعن طعن کرنے سے قطعی گریز نہیں کرتا۔ وہ محکمہ جو کبھی عوام کے سر کا جھومر اور ایک مقدس محکمہ سمجھا جاتا تھا، آج اس کو چاروں طرف سے مختلف مغلظات سننے کو ملتی ہیں لیکن یہ بےلوث سپاہی سب کچھ برداشت کرتے ہوئے بھی اس قوم کی حفاظت کے لیے اپنی راتوں کے سکون اور دن کے چین کو حرام کیے ہوئے ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان سے اب تک جو بھی اسلحہ برامد ہوا، جو بھی دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا، سب غیر ملکی ساختہ تھا اور ہے۔ جن میں اکثریت بھارتی ساختہ اسلحہ کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس جدید امریکہ اسلحہ بھی موجود ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کی ہی جاری کردہ وڈیوز میں ایک دو دفعہ سکھ انسٹرکٹرر اور ایک دفعہ انگریز انسٹرکر دکھ گیا تھا، جو اس بات کی کھلی گواہی ہے کہ کون سے بیرونی ہاتھ ان تنظیموں کی پشت پناہی کر رہے ہیں لیکن ہمارے میڈیا چینلز جو یو ٹیوب اور دیگر براڈکاسٹنگ ویب سائٹس سے مختلف وڈیوز تو اپنے خبر نامے میں نشر کرتے ہیں، ایسی وڈیوز ان کی آنکھوں کے سامنے سے شاید قطعی نہیں گزرتیں، یا گزرتی ہیں تو اس وقت آنکھیں بند ہوتی ہیں۔
یہ بات بھی آن ریکارڈ ہے کہ آپریشن کے پہلے پہل قبائل نے بلاشبہ مزاحمت کی تھی، لیکن جب ان پر حقیقت کھلی تو وہی قبائل افواج پاکستان کے شانہ بشانہ ان غیر ملکی طالبانوں کے خلاف ایسا لڑے کے ان کو اپنی زمین سے بےدخل کیا۔ اب بھی بارڈر پار کون ہے جو ان تحریک طالبان پاکستان کو حفاظت میں رکھتا ہے، اور پھر موقعہ ملتے ہی یہ حملہ کر کے سرحد پار افغان سرزمین میں کدھر غائب ہو جاتے ہیں۔ وہ ایساف کے دستہ جو پاکستان افواج کی آئے روز شکایت کرتے نظر آتے ہیں، ان کا پہرہ سرحد کر اس قدر سخت ہے کہ ایک پاکستانی فوجی کا پاؤں بھی سرحد پار ہو تو ان کا شکایتی بیان میڈیا چینلز کی بریکنگ نیوز میں دکھایا جاتا ہے۔ وہ کیا اس بات سے بالکل بےخبر ہیں کہ لوگوں کا ایک گروہ اپنے ساتھ بھاری اسلحہ لیکر سرحد پار گیا، پاک سرزمین پر کاروائی کی اور خاموشی سے اسلحہ سمیت واپس آ گیا۔
پاکستانی میڈیا چینلز تو کام ہی ان کے لیے کرتے ہیں جن کا کھاتے ہیں، لیکن پاکستان عوام بھی اگر ایسے آنکھیں بند کر کے فنڈڈ میڈیا چینلز کی اندھی تقلید کرتے رہے تو واللہ علم ایسے لوگوں کا کیا اور کیسا انجام ہو گا۔ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس سرزمین پاکستان کی حفاظت فرمائے، اس میں سے ایسے شر انگیز عناصر کا قلع قمع فرمائے اور ہم عوام کو عقل، سمجھ اور شعور عطا فرمائے کہ ہم اپنے دوست اور دشمن کو پہچان سکیں۔ آمین
پاکستان زندہ باد
افواج پاکستان پائندہ باد

نظام حکومت؟ خلافت یا جمہوریت

0 تبصرہ جات

نظام حکومت؟ خلافت یا جمہوریت

دنیا کے وجود میں آنے کے بعد اس دنیا میں رہنے والے انسانوں نے کئی حکومتی اور سیاسی نظام تخلیق کئے اور اختیار کیے، لیکن ہر نظام ایک مدت کے بعد اپنی موت آپ ہی مر گیا۔ ان سیاسی نظاموں کے تخلیق کرنے کی وجہ یہ تھی کہ انسان نے حاکمیت اپنے سر لے لی اور یہ مائنڈ سیٹ بنا لیا کہ افراد کی طاقت سے بالا اور زبردست ہوتی ہے، اور ان تمام سیاسی نظاموں کے برباد ہونے کی سب سے بنیادی وجہ یہ تھی کہ یہ انسان کے بنائے ہوئے نظام تھے۔
جب تک اس دنیا میں خلافت تھی اور جن جن جگہوں پر خلافت نافذ تھی اور مسلمانوں کی حکومت تھی، تب تک دنیا ان تمام جگہوں پر بہت پرسکون اور عدل و مساوات کا گہوارہ تھی، کیونکہ علاقہ کا گورنر ہو یا علاقے کا خلیفہ ہو، وہ اللہ تعالیٰ کو جواب دہ تھا۔ جب خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوئی اور صرف خلافت کا نام رہ گیا، تب سے دنیا میں گڑ بڑ شروع ہوئی کیونکہ اب اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے نظام میں انسانی مداخلت شروع ہو گئی تھی جس کی سب سے بڑی مثال گریٹ اوٹومان ایمپائر (خلافت عثمانیہ) ہے لیکن پھر بھی نام خلافت کا تھا اور حالات اتنے خراب نہیں تھے۔
اس کے بعد کئی نظام آئے، بادشاہت آئی اور ختم ہو گئی، پھر کمیونزم آیا اور اپنی موت آپ مر گیا۔ بیچ میں کئی نظام آتے رہے اور اپنی موت آپ مرتے رہے تاہم بنیادی عقیدہ یہی ہے کہ کمیونزم کی موت کے بعد جمہوریت آئی جس کا مرکز لوگ تھے، جو لوگ چاہیں وہی قانون بن جائے گا اور میرے ذاتی خیال میں جمہوریت کا ہی کا ایک اور تلسلسل سیکلولرازم کی شکل میں سامنے آیا ہوا ہے؛ اب ایک اور نظام سامنے آ رہا ہے آہستہ آہستہ جس کو ہم عرف عام میں دجالی نظام کہتے ہیں اور دنیا کی زبان میں نیو ورلڈ آرڈر (وَن ٹو روول آل) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس تمام صورتحال میں جو سب سے بڑی برائی رہی، وہ اندھی تقلید ہے۔ جب کمیونزم اپنے عروج پر تھا تو ہر طرف سے آوازیں آتی تھیں کمیونزم کے بغیر ملک نہیں چلتا، پھر کمیونزم ختم ہو گیا اور جمہوریت سامنے آئی تو اب ہر جگہ سے آوازیں آتی ہیں جمہوریت کے بغیر ملک نہیں چلتا، اور اب ایک گروہ ہے جو شرپسند اور اسلام دشمن عناصر پر مبنی ہے جو کہتے ہیں سیکولرازم کے بغیر ملک نہیں چلتا۔
جو نظام ختم ہو گئے، وہ تو گئے لیکن جو موجود ہیں وہ تمام کے تمام اسلامی احکامات سے قطعی طور پر تضاد رکھتے ہیں اور یہ کسی مسلمان ریاست کا قطعی شیوہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ ایک ایسے نظام حکومت کو اپنے ملک میں نافذ کرے جو اللہ تعالیٰ کے احکامات اور اسلام کے طریقوں سے قطعی طور پر تضاد رکھتے ہیں تاہم چونکہ پاکستان اور دنیا کے کئی مسلم ممالک میں جمہوریت ہی نافذ ہے، اسی لیے زیادہ بات اور زیادہ توجہ اسی نظام حکومت پر مرکوز رکھی جائے گی ان شاء اللہ۔
اگر کمیونزم کو دیکھا جائے تو اس میں لوگ رائے نہیں دے سکتے، اقلیتوں کو کچھ گھاس نہیں ڈالی جاتی، وزراء کو حکومت کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے اور جو حکومت فیصلہ کرے وہ حتمی ہے، یعنی اگر حاکم وقت نے کوئی نہایت بیہودہ اور غلط فیصلہ کیا ہے تو اس پر کوئی چوں چراں نہیں کر سکتا جو کہ بالکل غلط ہے۔
سیکلور ازم میں ہر کسی کو مکمل شخصی آزادی حاصل ہے، یعنی کوئی نماز پڑھے نہ پڑھے، کسی کے ساتھ جس طرح کا تعلق رکھے، جس قسم کی حرکات و سکنات اختیار کرے اور جو مرضی کرتا رہے، اس کی زندگی ہے اس کا اپنا اختیار ہے، ریاست یا کوئی بھی اس کو کچھ نہیں کہہ سکتا، بس قانون کی پاسداری کرتا رہے۔ مثال کے طور پر ایک شخص شراب بیشک پیے لیکن شراب پی کر گاڑی نہیں چلائے، سگنل نہیں توڑے اوور سپیڈ نہیں ہو وغیرہ وغیرہ اور یہ تو قطعی طور پر غلط ہے۔
جمہوریت میں رائے کا حق اور فیصلہ کرنے کا حق عوام کو حاصل ہے، عوام اپنا نمائندہ چنتے ہیں اور عوام کی رائے کو کوئی چلینج نہیں کر سکتا یعنی اگر عوام کی اکثریت بدفعلی اور غلط روایات اور اقدار پر عمل کرتی ہے، اور وہ اسی وجہ سے ایک حق پر ڈٹے ہوئے شخص کو رد کر کے ایک غلط آدمی اپنے لیے چن لیتی ہے تو یہ بالکل جائز ہے، اس میں کوئی قباحت نہیں۔۔۔ یہ بھی بالکل غلط ہے۔
اگر جمہوریت کا اسلامی احکامات و تعلیمات سے موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں طاقت کا سرچشمہ اور مرکز اللہ تعالیٰ ہے جبکہ جمہوریت میں طاقت کا مرکز عوام ہیں۔ اسلام میں حق پر ڈٹا رہنے والا ہزاروں جھوٹوں پر غالب ہے جبکہ جمہوریت میں جس کے زیادہ ووٹ ہیں، وہ غالب ہے اور اس کا مظاہرہ پچھلے کئی برس سے مسلسل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ یہی نہیں، اسلام کہتا ہے کہ اگرچہ حق پر ہونے والے قلیل ہوں اور تعداد میں کم ہوں لیکن حق کا ساتھ دینا لازم ہے، جبکہ جمہوریت میں اکثریت جو کہتی ہے، اور جس کا پلڑہ تعداد میں بھاری ہوتا ہے اگرچہ جھوٹ اور غبن اور بے ایمانی اس میں ملی ہوئی ہو، فیصلہ اسی کے حق میں ہوتا ہے اور وہی مسند اقتدار پر براجمان ہوتا ہے۔
جمہوریت کے بارے میں مفکر پاکستان اور حکیم الامت، علامہ محمد اقبال کہتے ہیں کہ
ہم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر
کاروبارِ شہر یاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر
مجلسِ ملت ہو یا پریوز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر!
تو نے دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام؟
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر!
میری رائے کے مطابق اب موجودہ سیکلورازم اسی جمہوریت کا ایک تلسلسل ہے جیسے ایک پودہ ہوتا ہے، وہ جب زمین میں چھوٹا رہتا ہے تو اس کی چھوٹی چھوٹی شاخیں ہوتی ہیں، اور جب بڑھتا ہے تو اس کا حجم، اس کی شاخیں اور گھیراؤ بھی بڑھ جاتا ہے، جمہوریت وہ چھوٹا پودہ تھا، اب جب وہ پودا درخت بنا ہے تو سیکلورازم کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جمہوریت وہ ناسور ہے جو آہستہ آہستہ ملک و ملت اور قوم کو اندر سے کھوکھلا کرتا ہے۔ آج پاکستانی قوم کا حال دیکھیئے۔ آزادی جمہور کا آغاز کمیونزم سے ہوا تھا، کمیونزم بہت بری چیز ہے، لوگ کچھ چوں چراں ہی نہیں کر سکتے اس لیے ایک نیا نظام لایا جائے جس میں سب کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہو، اس کا نام جمہوریت ہے لیکن یہ ایک دھوکہ دہی کی بات تھی، اور اس کا اصل کچھ اور تھا۔ مسلمانوں اور مسلم ممالک کو جمہوریت کی غلاظت میں لت پت کرنے کے لیے جو ایک نقطہ سامنے لایا گیا، وہ بات اسلامی نظام سے لی گئی تھی کہ ایک بدو نے عمر بن خطاب رضی اللہ تعلیٰ عنہُ سے اٹھ کر سوال کیا اور پوچھ گچھ کی لیکن یہ صرف ایک دھوکہ تھا، اصل کچھ اور تھا جو بعد میں آہستہ آہستہ سامنے آیا۔ اس کے بعد دوسرا مرحلہ شخصی آزادی، انسان جو مرضی کرے اس کو آزادی ہے، کوئی روک ٹوک نہیں ہونی چاہیئے، پھر عورتوں کی آزادی کا ایک نیا رنگ سامنے لایا گیا، کہ عورتوں پر بڑا ظلم ہوتا ہے، ان کو پردہ میں بند کرکے نہیں رکھنا چاہیے، ان کی مرضی وہ جیسے چاہیں جس کے ساتھ چاہیں رہیں، ان کو آزاد کیا جائے، پھر ہیومین رائٹس واچ، اور انسانی حقوق کی علمبردار تنظیمیں اور این جی اوز کا تصور سامنے آیا، اس کے بعد ہمارا کلچر یہ خاندانی نظام، یہ سب بےکار چیزیں ہیں، کیوں ایک شخص کے ساتھ قید کو ہر زندگی گزاری جائے، انسان آزاد پیدا ہوا ہے وہ جہاں جس مرضی کے ساتھ جب جیسے جس حال میں رہے، ایک سے دل بھر گیا تو ٹھیک ہے دونوں فریقیں کسی دوسرے کے ساتھ تعلقات رکھ لیں، آزادی ہونی چاہیئے، وغیرہ وغیرہ لیکن ان سب سے بھی دال نہیں گلی اور دنیا کے کئی عیسائی خاندان بھی ( یعنی اس نظام کے بنانے والوں کے اپنے لوگ بھی) ان باتوں سے قطعی طور پر نالاں اور ان کے خلاف تھے تو ایک نیا حربہ آزمایا گیا۔ اب کہا جاتا ہے کہ یہ مذہب بڑی خراب چیز ہے، یہ روک ٹوک کرتی ہے اسی کو نکال کر باہر پھینک دو اور یہ وہ فتنہ ہے جس نے سیکیولرازم کو جنم دیا۔
اس کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کے کُل مسلم ممالک اٹھا کر دیکھ لیں، زیادہ تر ان سب اقدار و روایات کو اپنا چکے ہیں، اکثریت اس سانپ سے ڈسی جا چکی ہے، مراکش کو دیکھ لیں، تیونس میں سر ڈھانپنے کی پابندی تک لگ چکی تھی، عرب امارات کی حالت دیکھ لیں، دبئی کے ہوٹلوں میں کیا ہے جو نہیں ہوتا، بہت کم مسلم ممالک بچے ہیں جو اب تک ایک دیوار بنے ہوئے ہیں اور ان میں بھی اکثریت کے اڑنے کی وجہ ان کی عوام ہے، اور ان سب میں بھی واحد ایک پاکستان ہے جس کا متوسط طبقہ سب سے زیادہ رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے اس معاملے میں، اور اسی وجہ سے سب سے زیادہ یلغار بھی پاکستان پر ہی ہو رہی ہے؛ اور اس کے ساتھ تمام اقوام مغرب کی سرتوڑ کوشش ہے کہ مسلمانان عالم کو اسی جمہوریت اور مست مئے ذوق تن آسانی رکھا جائے اور ان کو میدان میں لائے بغیر ان کو فتح کیا جائے کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر یہ مسلمان جاگ گئے تو پھر ان کو اپنی سالمیت کے شدید لالے پڑ جائیں گے جیسے علامہ اقبال کہتے ہیں کہ:
خیر اسی میں ہے قیامت تک رہے مومن غلام
چھوڑ کر اوروں کی خاطر یہ جہانِ بے ثبات
ہے وہی شعر و تصوف اس کے حق میں خوب تر
جو چھپا دے اس کی آنکھوں سے تماشائے حیات!
ہر نفس ڈرتا ہوں اس امت کی بیداری سے میں
ہے حقیقت جس کے دیں کی احتسابِ کائنات!
مست رکھو ذکر و فکرِ صبحگاہی میں اسے
پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے
یہ کیا ہے جو موسیقی کے مقابلے ہوتے ہیں اور اس کو فن کا نام دیا جاتا ہے، امن کی آشا کے نام پر مراثی اور گلوکار اور گویّے ایک ملک سے دوسرے اور دوسرے سے ادھر آتے ہیں اور بڑے فخر سے کہتے ہیں یہ لکیر بس زمین پر ٹھیک ہے، دلوں میں نہیں ہے، کچھ تو یہ کہتے ہیں کہ اس لکیر ہی ختم کر دو جس میں بڑے بڑے “شرفاء اور معززین اور پولیٹیکل لیڈرز” شامل ہیں۔ یہ کیا بیہودگی اور بےغیرتی کی باتیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ امریکہ بہت بڑا طاقتور ہے اس لیے خیر اسی میں ہے کہ سے خطرہ مول نہیں لیا جائے، جو وہ کہتا ہے کرتے رہو۔
آج کتنے نوجوان ہیں جو موسیقار، گلوکار اور راک سٹار بننا چاہتے ہیں، اور کتنے ہیں جو خالد بن ولید رضی اللہ تعلیٰ عنہ، موسیٰ بن نصیر، طارق بن زیاد یا صلاح الدین ایوبی بننا چاہتے ہیں۔ ہم نے ان کی کہانیاں تک بھلا دیں، ایسا سلوک کیا کے داستاں بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔ کیا اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو اپنے اس ملک کی باگ دوڑ دے گا
اس سب کا حل کیا ہے؟ جیسا کے پہلے بتایا گیا کہ ان تمام نظاموں کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہی تھی کہ یہ نظام انسان کی تخلیق تھے اور انسان اپنی عقل میں بہت ناقص ہے لہٰذا جب تک ممالک انسان کے نظام کو اپنائیں گے تب تک کچھ نہیں ہو سکتا، حل یہ ہے کہ انسان کے نظاموں کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کے نظام کو نافذ کیا جائے اور یہ باور کیا جائے کے حاکمیت انسانوں کی نہیں بلکہ حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہے، وہ نظام کیا ہے اور اس کو کیسا ہونا چاہیے؟ اس کے لیے سب سے بڑی اور بہترین مثال حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کی ہے، آدھی دنیا پر خلافت قائم تھی لیکن ہر جگہ عدل اور انصاف اور مساوات کا دور دورہ تھا، کہیں کسی کے حقوق کی پامالی قطعی طور پر ناممکن تھی چاہے وہ مسلمان ہو، عیسائی ہو، یہودی ہو یا کوئی بھی ہو، حاکمیت صرف اللہ تعالیٰ کی ہوگی، نظام صرف اللہ تعالیٰ کا چلے گا۔ ایک ادنیٰ سے قاصد سے لیکر گورنر اور خلیفہ وقت تک سب پہلے اللہ تعالیٰ کو جوابدہ ہیں پھر کسی اور کو جوابدہ ہیں اور اس نظام کو خلافت کے نام سے جانا جاتا ہے۔
جب تک یہ نظام نافذ نہیں ہو جاتا، ہر طرف ایسی ہی ہیجان اور اضطراب کی کیفیت قائم رہے گی، ایسے ہی بےسکونی پوری دنیا کو اپنے گرد گھیرے رہے گی اور قوموں کے سب سے رذیل لوگ اور چور اور اچکے اپنی قوموں کی نمائندگی کرتے رہیں گے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان اور پاکستان کی عوام کا حامی وناصر ہو، اور دنیا میں خلافت کے نظام کو قائم فرمائے اور استحقام بخشے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت اور مغفرت کی لپیٹ میں لیکر اپنے فضل کی بارش ہم سب پر برسائے۔ آمین
Pak Urdu Installer

فیس بک پر ہمارا صفہ

اپنے فیس بک پر لکھیں

مہمان ممالک

free counters