اسلام علیکم
محترم مہمان آپ کا
urduyahoo.blogspot.com
پر آنے کا بہت بہت شکریہ
اس بلاگ میں آپ کو اگر کوئی غلطی نظر آئے یا اس کی بہتری کے لئے اگر کوئی تجویز بھی دینا چاہیں تو ہم آپ کے شکر گزار ہوں گے
اور اگر آپ کوئی تحریر شائع کروانا چاہتےہیں تو آپ ہمیں ای میل کریں
ؑEmail : jinnah332@yahoo.com
بلب انٹر نیٹ کنکشن فراہم کرے گا
جلد ہی بلب کے ذریعے وائرلیس انٹرنیٹ براڈ کاسٹنگ شروع ہو گی۔ ہیرا لڈہاز بیت بڑے ماہر طبعیات ہیں اور انہوں نے اس مقصد کے لئے ٹیکنالوجی تیار کی ہے ، اس طرح عام بلب سے ڈاٹا براڈ کاسٹ ہو کرے گاجب آپ بلب روشن کریں گے تو انٹرنیٹ کنکشن بھی آن ہو جائے گا۔
اس ٹیکنالوجی کو انہوں نے ڈبل LIFI کا نام دیا ہے یعنی LIGHTFIDELITY یہ ٹی وی سے وائرلیس ڈیٹا بھی بھیجے گا ۔ پروفیسر ہاز برطانیہ کے ایڈنبرا یونیورسٹی اسکول آف انجینئرنگ میں پڑھاتے ہیں،فی الوقت اس ٹیکنالوگی کے ذریعے ریڈیائی لہروں سے کام لیا جارہا ہے جو ناکافی ہے۔ اس وقت دنیا بھر میں 40 ارب لائٹ بلب استعمال ہو رہے ہیں جب موجودہ INCANDELSCENT ماڈلز کی جگہ LED بلب استعمال ہوں گے تو پروفیسر کا دعوٰی ہے کہ وہ ان سب کو انٹرنیٹ ٹرانسمیٹر میں تبدیل کر دے گا۔
اس ایجاد کا نام ڈی لائٹ رکھا گیا ہے اس کے ذریعے فی سیکنڈ دس میگا بائٹس جتنا ڈاٹا بھیجا جا سکتا ہے، یہ عام براڈ بینڈ کنکشن کی رفتار ہے۔ اس کا وسیع اور مفید استعمال گھروں کے ساتھ ہسپتالوں، طیاروں، فوجی مقاصد اور زیر آب بھی ہو گا طیارے کے بلب سے جو سگنلز ملیں گے، مسافر انہی کے ذریعے انٹرنیٹ استعمال کر لیا کریں گے۔
بے وقوف کمپیوٹر!

باقی دنیا نے تو روزمرہ زندگی سہل، شفاف اور باقاعدہ و بااعتبار کرنے کے لیے اپنے اداروں اور انتظام و انصرام کو کمپیوٹرائزڈ کرکے اس کے پھل سمیٹنے شروع کردیے ہیں لیکن پاکستان میں کمپیوٹرائزیشن نے زندگی جتنی آسان کی ہے اتنی ہی مشکل بھی بنا دی ہے۔
کیونکہ کمپیوٹر کو یہ تمیز تو ہے کہ مواد اور اعداد و شمار سے کس طرح ترتیب وار کھیلنا ہے لیکن اب تک کوئی ایسا کمپیوٹر ایجاد نہیں ہوا جو بدنیتی و جہالت سے پر مواد کو خالص و ایماندارانہ ڈیٹا سے الگ کر کے مرتب کر سکے۔
مثلاً جب پرویز مشرف دور میں نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) تشکیل دی گئی تو بتایا گیا کہ اب اغلاط و جعلسازی سے پاک شناختی کارڈ ، پاسپورٹ اور ووٹرز لسٹیں تیار ہوں گی اور کوئی فراڈ یا کمپیوٹرائزڈ ڈیٹا اور دستاویزات کو جل نہیں دے سکے گا۔گو کسی حد تک ایسا ہوا بھی، لیکن جعلسازوں نے بھی اپنے طور طریقے جدیدیا لیے۔ اگر پہلے کوئی افغان ، برمی بنگلہ دیشی یا عرب باشندہ غیر مشینی شناختی کارڈ پانچ ہزار روپے اور ہاتھ سے لکھا پاکستانی پاسپورٹ پچیس ہزار میں بنوا لیتا تھا تو آج اسے یہی سودا بیس ہزار سے ایک لاکھ روپے میں کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ و پاسپورٹ کی صورت میں مل جاتا ہے۔
ریلوے کی ٹکٹنگ کا نظام بھی بڑے شہروں کی حد تک کمپیوٹرائزڈ کرنے کی کوشش کی گئی۔مگر یار لوگوں نے اس نظام کو جل دینے کے طریقے بھی نکال لیے۔ محمد رمضان کے نام پر کمپیوٹرائزڈ بکنگ سلپ بنتی ہے اور کسی ضرورت مند محمد اسلم کو یہ سلپ فروخت کرکے بطور محمد رمضان سفر کروا دیا جاتا ہے یا اگر اصلی محمد اسلم کسی سبب اپنا ٹکٹ استعمال نا کرسکا تو اس کی جگہ کسی غلام حسین کو کراچی سے لاہور کے ڈبے میں بٹھا دیا جاتا ہے اور گیارہ سو کلومیٹر کا پورا کرایہ جیب میں ڈال کر میاں چنوں سے لاہور کی سو کلو میٹر کی ٹکٹ بنا دی جاتی ہے ۔غلام حسین بھی خوش اور ٹکٹ ایگزامنر بھی خوش اور قومی خزانہ ناخوش ۔
پھر جعلی ڈرائیونگ لائسنسوں کے خاتمے کے لیے کمپیوٹرائزڈ لائسنس جاری ہونے شروع ہوئے۔ بس اتنا ہوا کہ پہلے جو لرننگ لائسنس ہاتھ سے بنتا تھا اب کمپیوٹر سے بنتا ہے اور اس کے فوراً بعد باقاعدہ ڈرائیونگ لائسنس بھی کمپیوٹرائزڈ بنا دیا جاتا ہے۔ کیونکہ ڈرائیونگ ٹیسٹ لینا نا لینا آج بھی ٹریفک پولیس کی ذمہ داری ہے۔ کمپیوٹر تو صرف ایک تابعدار منشی ہے۔
لیکن سب سے بڑا کمپیوٹر گیم تعلیم کے شعبے میں ہورہا ہے۔ پہلے طالبِ علم کے نمبر ہاتھ سے تبدیل ہوتے تھے اب کی بورڈ سے تبدیل ہوتے ہیں۔ پہلے امتحانی پرچوں کی جانچ اساتذہ خود کرتے تھے اب کمپیوٹر کو ٹھیکے پر دے دیے جاتے ہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
مثلاً اس سال صوبہ پنجاب میں انٹرمیڈیٹ سالِ اوّل کے جو کمپیوٹرائزڈ امتحانی نتائج سامنے آئے ان پر کمپیوٹر ٹیکنولوجی بھی ششدر ہے۔ جس مضمون میں پریکٹیکل نہیں ہوتا اس مضمون میں کمپیوٹر نے پریکٹیکل نمبر دے دیے۔ اکنامکس کا پرچہ دینے والے بچے کو بیالوجی میں کامیاب دکھا دیا گیا اور بیالوجی والے نے فلاسفی میں اے گریڈ لے لیا۔ جس نے انگریزی کا پرچہ دیا اسے صفر ملا اور جس نے انگریزی کا پرچہ نہیں دیا اسے انگریزی میں بیالیس نمبر مل گئے۔
ظاہر ہے طلبا نے مشتعل ہوکر توڑ پھوڑ شروع کردی۔ چنانچہ پاکستان کی تعلیمی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی صوبے کے تمام انٹرمیڈیٹ بورڈز کے کمپیوٹرائزڈ نتائج منسوخ کر کے نئے سرے سے نتائج مرتب کرنے کا اعلان کرنا پڑا اور انٹرمیڈیٹ سالِ اول کے تمام طلبا کو تالیفِ قلب کے لیے اگلے درجے میں ترقی دینے کا فیصلہ بھی زیرِ غور ہے۔
کیا اس دنیا کا کوئی سٹیو جابز ایسا کمپیوٹر یا کوئی بل گیٹس ایسی ونڈو متعارف کروا سکتا ہے جو غلط ڈیٹا کی انٹری اور بدنیت پروگرامر کا ہاتھ پہچان سکے اور ذہن پڑھ سکے۔
جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا پاکستان اور پاکستان جیسے درجنوں ممالک کمپیوٹر ایج میں تو داخل ہو سکتے ہیں لیکن کمپیوٹرائزڈ ایج میں نہیں۔۔۔
جھوٹ آسانی سے پکڑا جائیگا
انٹر نیٹ کیفے میں جب بھی آپ جائیں تو کسی بھی کمپیوٹر کو استعمال کرنے سے پہلے تسلی کر لیں کہ کسی بھی سی پی یو کے پیچھے اس طرح کی کوئی ڈیوائس تو نہیں لگی ہوئی؟؟؟
انٹرنیٹ کیفے میں جاتے وقت احتیاط کریں
اگر لگی ہوئی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس کمپیوٹر کو استعما ل کرنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔
درحقیقت یہ ایک ایس ڈیوائس ہے جو آپ جو کچھ بھی ٹائپ کریں گے اپنی میموری میں محفوظ کر لے گی یعنی آپ کا پاس ورڈ، یوزر نیم اور باقی تمام معلومات بھی۔۔۔۔۔۔
اور اس طرح جس نے یہ ڈیوائس کمپیوٹر کے ساتھ لگائی تھی وہ آپ کا فیس بک، جی میل، یاہو اور دیگر اکاؤنٹس کو با آسانی ہیک کر کے ان کا غلط استعمال کر سکتا ہے اس لیے احتیاط کیجئے کیوں کہ
احتیاط علاج سے بہتر ہے۔
اس میں احتیاط اس طر ح ہو سکتی ہے کہ ایسی ڈیوائس یا سافٹ وئیر آپ جو کچھ بھی ٹائپ کرتے ہیں اس کو آرڈر میں محفوظ کرتی ہے یعنی جو لفظ آپ پہلے ٹائپ کرتے ہٰیں وہ پہلے اور پھر اسی طرح ترتیب سے سب کچھ سیف ہوتا جاتا ہے
تو جب بھی آپ کو نیٹ کیفے یا کسی اور کا سسٹم استعمال کرنا پڑے تو پہلے یوزر نیم کا ایک لفظ لکھیں اور پھر پاسورڈ کا - پھر یوزر نیم کا دوسرا لفظ اور پھر پاسورڈ کا دوسرا لفظ اور پھر ورڈ پیڈ پر کچھ بھی ٹائپ کرٰیں مثلا
arf اور پھر ایک لفظ باری باری یوزر نیم اور پاسورڈ کا لکھیں
اس طرح ایسے ڈیوائس یا سافٹ وئیر کو دھوکہ دیا جا سکتا ہے - بلکہ آپ اپنے سسٹم پر بھی یہی طریقہ استعمال کریں -
اگر آپ کا یوزر نیم internet اور پاسورڈ cafe ہے تو اگر آپ بتائے گئےطریقہ سے ٹائپ کریں گے تو ڈیوائس میںکچھ اس طرح محفوظ ہو گا
والسلام
آپ کا بھائی
ٹورنٹ کی مدد سے مختلف قسم کا مواد ڈاون لوڈ کرنے کا طریقہ
انٹرنیٹ سے مواد حاصل کرنے کا بہترین اور آسان طریقہ ٹورنٹ کی مدد سے ڈاون لوڈنگ ہے۔آپ نے دیکھا ہو گا کہ کچھ فائل ہوسٹنگ سائیٹ پر موجود فائلز کو ڈاون لوڈ کرنے کے لئے ایک تو انتظار کرنا پڑتا ہے اور اس کے بعد اگر ڈاون لوڈ کے دوران ربط ٹوٹ جائے یعنی انٹرنیٹ کنکشن ڈاون ہو جائے تو دوبارہ سے پھر محنت کرنا پڑتی ہے۔ یا لوڈ شیڈنگ کی مہربانی کی وجہ سے ڈاون لوڈ کرنے میں مسئلہ ہو تا ہے۔ تو جناب اس کے لئے ہمیں ایسی چیز کی تلاش ہے جس کی مدد سے ہم آسانی سے ڈاون لوڈ کر سکیں اور اس ڈاون لوڈ کے دوران کسی قسم کی بریک بھی اثرا نداز نہ ہو۔
ہمیں انٹرنیٹ سے ڈاون لوڈ کرنے کے لئے موویز ، ویڈیوز، آڈیوز ، سافٹ وئیرز ، ویڈیو گیمز اور مختلف قسم کی کتابوں کا زخیرہ مل جاتا ہے۔
آج ہم ٹورنٹ کی مدد سے ایسا مواد ڈاون لوڈ کرنے کی کوشش کریں گے۔ پہلے مرحلے میں ہم ٹورنٹ ڈاون لوڈ سافٹ وئیر ڈاون لوڈ کریں گے جس کی مدد سے ٹورنٹ کام کرے گا۔
تو اس کے لئے ہم سب سے پہلے یو ٹورنٹ کی سائیٹ پر جائیں گے۔
لنک
اس کے بعد ذیل میں دی گئی تصویر کے مطابق ہم ڈاون لوڈ ربط پر کلک کر کے اپنا مطلوبہ سافٹ وئیر ڈاون لوڈ کر لیں گے۔
اس کے علاوہ آپ بِٹ ٹورنٹ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔
http://www.bittorrent.com
اس کو ڈاون لوڈ کرنے کے بعد آپ انسٹال کر لیں۔
اب دوسرے مرحلے میں ہم نے ٹورنٹ فائل کو تلاش کرنا ہے اور اس کے بعد اسے ٹورنٹ ڈاون لوڈر سافٹ وئیر کی مدد سے اپنی مطلوبہ چیز کو ڈاون لوڈ کرنا ہے۔
تو جناب ہم سب سے پہلےزیل میں دی گئی فلم کو اردو میں ڈاون لوڈ کرنے کے لئے ٹورنٹ تلاش کرتے ہیں۔
The Message in Urdu
ٹورنٹ فائلز کو تلاش کرنے کے لئے بھی بہت سی ویب سائیٹس ہیں۔ جیسا کہ
پائریٹ بے
thepiratebay.org
منی نووا
http://www.mininova.org
بی ٹی جنکی
http://btjunkie.org